مورین: برطانوی سماجی کارکن، پاکستانی شہریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبۂ سرحد کے دورافتادہ دلکش پہاڑی ضلع چترال میں وادی کیلاش کو گزشتہ دو دہائیوں سے اپنا مستقل گھر بنانے والی برطانوی خاتون سماجی کارکن مورین لائنز کو بالآخر پاکستانی شہریت دے دی گئی ہے۔ مورین، جنہوں نے کیلاش کے لوگوں کے لئے بقول ان کے اپنا آسان نام بی بی ڈو رکھا ہوا ہے، انیسو پچاسی میں چترال آئیں اور یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے وادی بریر کو اپنا مسکن بنایا اور دو غیر سرکاری تنظیموں کی داغ بیل ڈالی۔ ان میں سے ایک کیلاش میں ماحول کے تحفظ کی اور دوسری ہندوکش کنزرویشن ایسوسیشن نام کی تنظیم ہے۔ انہوں نے کیلاش کی ثقافت پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ انہیں گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان کی جانب سے قومی شناختی کارڈ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی شہریت ملنے پر میں نے ان سے ان کے تاثرات دریافت کیے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملک سے پیار کرتی ہیں۔ ’کئی برسوں سے میری شہریت حاصل کرنے کی خواہش تھی۔ لیکن جب میری والدہ چار برس قبل فوت ہوئیں تو برطانیہ میں میں نے اپنا مکان اور سب کچھ فروخت کر دیا۔ مجھے برطانیہ میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں ہے کیونکہ یہاں میرا کام ہے یہیں وادی کیلاش میں میرا اختیار کیا ہوا خاندان ہے میرے دوست ہیں۔‘
مورین اس تاثر کو بھی غلط قرار دیتی ہیں کہ وہ صرف کیلاش کی آبادی کی بہبود کے لئے کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے منصوبوں سے سب مستفید ہوتے ہیں۔ ایک خوش مزاج خاتون ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے جب ان کی عمر پوچھی تو انہوں نے یہ سوال ہنس کر ٹال دیا۔وہ انگریزی کے علاوہ پشتو اور کیلاشی زبان بھی بول سکتی ہیں۔ مورین کو شہریت ایک ایسے وقت ملی ہے جب پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مغربی ممالک کی شہریت کی خواہش رکھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||