BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 June, 2004, 21:02 GMT 02:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں بارشیں آٹھ افراد ہلاک

بارش
بارش اور آندھی کے نتیجے میں کئی درخت جڑوں سے اکھڑ گئے
سندھ کے بالائی علاقوں میں موسم گرما کی پہلی بارش نے تباہی مچا دی ہے- مختلف اضلاع سے کم از کم آٹھ افراد کے ہلاک اور ستر سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

سنیچر کی رات اور اتوار کی صبح کو ہونے والی طوفانی بارش اور اس سے قبل مٹی کے طوفان کی وجہ سے کئی شہروں اور گاؤں میں مکانات گرگئے اور کئی ایک کی چھتیں اڑگئیں۔

مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کی وجہ سے جیکب آباد کے شہر کندھ کوٹ میں دو بچوں سمیت چھ افراد، خانپور میں ایک بچے اور لاڑکانہ ضلع کے رتو ڈیرو شہر میں ایک سپاہی کے دیوار کے نیچے دب جانے کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے۔

کندھ کوٹ میں تیس، شکارپور میں سترہ، جیکب آباد میں دس، نوشہروفیروز میں پانچ، جوہی میں تین، قاضی احمد اور خیرپور میں ایک ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

طوفان اور بارش کی شدت جیکب آباد اور شکارپور ضلعوں میں زیادہ تھی جہاں جانی اور مالی نقصانات زیادہ ہوئے ہیں۔

بارش
کئی مکانوں کی دیواریں گر گئی

تنگوانی کے علاقے میں ایک مکان کی چھت اڑ کر پڑوس میں جا گری جس سے پڑوس کے دو بچے زخمی ہوگئے۔

کشمور کے قریب بڑے بڑے پیڑ مراد واھ کی پل پر گرگئےجس کی وجہ سے انڈس ہائی وے بند ہوگئی۔ جسے تین گھنٹے بعد کھولا جا سکا۔
بارش کی وجہ سے کئی شہروں میں بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبے گرگئے جس کی وجہ سے کئی شہر تاریکی میں ڈوب گئ جب کہ ٹیلی فون کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

نوابشاہ شہر میں ایک پیڑ گر جانے کی وجہ سے کئی گھنٹے تک بجلی بند رہی- اسی طرح سے دادو کے علاقے بھان سید آباد میں بجلی کے کھمبے گرنے کی وجہ سے پوری ایک تحصیل میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی اور اتوار کے روز دوپہر تک بجلی بحال نہیں کی جا سکی تھی۔

کئی
کئی گھروں کے مکین نقلِ مکانی پر مجبور ہو گئے

بارش کی وجہ سے کھجی اور آموں کے فصل کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یہ فصلیں تیار تھی یا پکنے کے آخری مراحل میں تھیں۔ اطلاعات کے مطابق سکھر اور خیرپور کے علاقوں میں رواں سال بمپر فصل ہوئی تھی لیکن آخری مرحلے میں بارش اور طوفان کی وجہ سے کاشتکاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پیر جو گوٹھ، ببرلو خیرپور اور پنوعاقل کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کھجی کے باغات او پچاس فیصد سے زائد نقصان پہنچا ہے- اسی طرح سے بالائی سندھ کے بعض علاقوں میں آموں کی چنائی ابھی نہیں پوئی تھی وہاں طوفان اور بارش نے آموں کو تباہ کردیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد