سمندری طوفان: خطرہ کم ہورہاہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحیرہ عرب میں پاکستان کے ساحلی علاقوں کی طرف بڑھنے والے طوفان میں کمی آ گئی ہے- اس طوفان کے پھیلاؤ کی وجہ سے سندھ کے زیریں اور ساحلی علاقوں میں اگلے اڑتالیس گھنٹے کے دوران تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے- تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شدید بارش اور تیز ہواؤں کی صورت میں نقصانات کا اندیشہ موجود ہے- بحیرہ عرب میں کراچی سے تقریبا ایک ہزار کلو میٹر دور سمندر میں یہ طوفان ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد پاکستان او ربھارت دونوں ممالک کے متعلقہ حکام طوفان کے رخ اور شدت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ طوفان کا رخ پیر کی شام کو شمال شمال کے بجائے شمال مشرق کی طرف ہوگیا جس کے نتیجے میں سندھ کا ساحلی علاقہ اس طوفان کی زد سے بچ گیا- محکمہ موسمیات کے مطابق اب یہ طوفان بھارت کی ریاست گجرات کے علاقے سے رات کے کسی وقت ٹکرائےگا- پیر کے روز سندھ کے زیریں علاقوں پر بادل چھائے رہے اور شدید گرمی اور مٹی کی وجہ سے دھند چھائی رہی- اور مچھیروں نے اپنی کشتیاں ساحل پر لگادیں- بدین اور ٹھٹہ میں خوف و ہراس کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ گذشتہ سال ان علاقوں میں بارش کی وجہ سے بڑی تباہی پھیل گئی تھی جس میں ایک سو ترپن افراد ہلاک اور آٹھ لاکھ انہتر ہزارافراد متاثر ہوئے تھے- جب کہ 44 ہزار کچے مکانات گرگئے تھے جبکہ اور چورانوے ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا- پانچ سال قبل سندھ کے ساحلی علاقوں کو ایک ایسے ہی طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں سینکڑوں انسانی جانیں ضایع ہو گئیں تھیں اور بڑے پیمانے پر فصلوں اور املاک کا نقصان ہوا تھا- ضلع بدین کے ناظم کمال خان چانگ نے بتایا کہ ضلع میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا گیا ہے- پولیس اور رینجرز کو چوکس کردیا گیا ہے اور پاک افواج سے پچیس کشتیاں حاصل کرلی گئی ہیں تاکہ خطرے کی صورت میں لوگوں کو نکالنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کا کام کیا جا سکے- اس کے علاوہ لوگوں کو طبی امداد پہچانے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں- ساحلی علاقے کڈھن کے شہری غلام مصطفٰی کا کہنا ہے کہ بدین اور ٹھٹہ کے لوگ ابھی گذشتہ سال کی تباہی سے بحال نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور آفت آن پڑی ہے- ان کا کہنا تھا کہ بہرحال ساحلی علاقے میں کاشتکاروں، ملاحوں اور دوسرے مکینوں کو نقصان کا احتمال ہے کیونکہ تمام تر حکومتی دعٰووں کے باوجود نہ پانی کی نکاسی کا انتظام ہے اور نہ ہی لوگوں کو نکالنے کا- محکمہ موسمیات کے کراچی میں متعین ڈائریکٹر محمود نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ اگرچہ طوفان کا رخ پاکستان سے تبدیل ہو گیا ہے تاہم اس طوفان کے پھیلاؤ کی وجہ سے سندھ کے زیریں اور ساحلی علاقوں میں اگلے اڑتالیس گھنٹے کے دوران تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے- طوفان کی وجہ سے سمندر میں دس سے بارہ فٹ تک اونچی لہریں اٹھیں گی جس کی وجہ سے ماہی گیروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے دو دن تک محتاط رہیں- حالیہ طوفان او گذشتہ طوفان کے موازنہ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہا کہ دو طوفانوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی شدت ، رفتار اور لوکیشن اپنی اپنی ہوتی ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||