بلوچستان میں بارش: پانچ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشیں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے ایک مکان کی چھت گرنے سے چار بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ آسمانی بجلی گرنے سے تین بچے جھلس گئے ہیں۔ انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔ بلوچستان کے علاقے لورالائی اور اس کے گردو نواح میں کافی عرصے کے بعد اس قدر شدید بارش ہوئی ہے۔ بارش سے مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا جبکہ کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔ ایک مکان میں چار بچے اپنے ماموں کے ساتھ موجود تھے کہ اچانک کمرے کی چھت گر گئی جس سے گلاب نامی شخص سمیت چار بچے ہلاک ہوگئے۔ اس طرح کٹوی کیمپ کے پاس آسمانی بجلی گرنے سے تین بچے جھلس گئے۔ جنہیں ابتدائی طبی امداد دے کر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے لورالائی سےمقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ بچوں کو معمولی چوٹیں آئی تھیں۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر ٹرکوں کے الٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لورالائی سے باہر سنجاوی روڈ پر دو ٹرک الٹ گئے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لورالائی سے پنجاب جانے والی سڑک پر مرمت کا کام جاری ہے۔ مقامی سطح پر یہ شکایت عام ہے کہ مرمت کے کام میں سست روی کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے گاڑیاں الٹ جاتی ہیں اور سات گھنٹے کا سفر بارہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں غربت کی وجہ سے لوگ کچے مکانات میں رہتے ہیں۔ مٹیالے پہاڑوں میں گھرے مٹی کے مکانات پہاڑوں کا حصہ نظر آتے ہیں۔ گزشتہ سات سالوں کی خشک سالی کے بعد اب بارشیں شروع ہو رہی ہیں جس سے ایک طرف پانی کی دستیابی تو ضرور ہو گی لیکن دوسری جانب نکاسی آب اور صفائی کا بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں یہ شکایت عام ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے آنے سے شہروں میں غلاظت اور گندگی کے ڈھیروں میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||