فلپائن: سیلاب میں چار سو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلپائن میں امدادی کارکنان طوفان سے تباہ شدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ایک اور طوفان کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں فلپائن کے مشرقی علاقے میں آنے والے سیلاب سے انداز ً چار سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ڈیڑھ سو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ تیز پانی اور بند راستوں کی بنا پر پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں یا اپنے گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں۔فلپائن کو ایک ہفتے کے دوران تین طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مشرقی جزیرے لیوزن پر زیادہ تر اموات ڈوبنے، مٹی کے تودے گرنے یا بجلی کے جھٹکوں سے ہوئیں ہیں۔ جزیرے پر دریائی پانی نے گھروں، گاڑیوں اور پلوں کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ کوئزون صوبے میں سیلابی پانی میں صرف بلند درخت اور مکانوں کی چھتیں ہی نظر آرہی ہیں۔ سیلاب سے فلپائن کے مشرقی ساحل پر واقع رئیل، انفینٹا اور نکار کے قصبے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان قصبات میں تین سو چونسٹھ افراد کی ہلاکت کی خبر ملی ہے۔ رئیل نامی قصبے میں زیادہ تر لوگ ایک ایسی عمارت کے گرنے سے مارے گئے جسے متاثرہ لوگوں کی جائے پناہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ فلپائن میں حکام نے فوج کو امدادی کارروائیوں کا حکم دے دیا ہے۔ ادھر حکام کے مطابق منیلا کے شمال میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تلاش میں مصروف آٹھ فوجیوں کو باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ فلپائن کی صدر گلوریا ارویو نے مٹی کے کٹاؤ کو سیلاب کا سبب قرار دیتے ہوئے فلپائن عام طور پر طوفانوں کا شکار ہوتا رہا ہے اور انیس سو اکانوے میں آنے والے ایک طوفان سے فلپائن میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||