خواتین و بچے بحران کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں آنے والے سیلاب کے سبب خواتین اور بچے خوراک کے شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو خوراک کی قلت کے شکار بچوں کی تعداد آئندہ چھ ماہ میں بڑھ کر دس لاکھ ہو جانے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے افسر کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جولائی میں بنگلہ دیش گزشتہ چھ برس کے دوران آنے والے شدید ترین سیلاب کی زد میں رہا جس کے نتیجے میں چھ سو افراد ہلاک ہو گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ ستمبر میں بنگلہ دیش ایک بار پھر سخت بارشوں کی لپیٹ میں رہا۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد جولائی کے سیلاب سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متاثر ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے حالیہ برس میں آنے والے سیلاب کے بعد پانی کی نکاسی کے ناقص نظام، خوراک کی کمی اور سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث بچوں کی صحت پر انتہائی برا اثر پڑا ہے۔ یونیسف اور ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین اور چھوٹے شیرخوار بچوں تک مناسب خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||