اقوامِ متحدہ کی ٹیم بنگلہ دیش میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے سینیئر اہلکاروں کی ایک ٹیم بنگلہ دیش پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹیم بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں ربط و ضبط پیدا کرنے کا فریضہ انجام دے گے۔ شمال اور شمال مشرق سے دریاؤں کا پانی آہستہ آہستہ اترنا شروع ہو گیا ہے لیکن چالیس فیصد ڈھاکہ ابھی بھی سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ اس بات کی تیاری کر رہا ہے کہ جیسے ہی پانی اترے وہ ممبر اراکین سے خوراک اور ادویات کی ترسیل اور بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے امداد مانگیں گے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کے مطابق سڑکوں، پلوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اور مرمت کا تخمینہ سات ارب روپے لگا رہی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے کم از کم 30 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق ملک میں خوراک کی کافی مقدار موجود ہے لیکن مسئلہ اسے سیلاب سے متاثر علاقوں تک پہنچانا ہے۔ جیسے جیسے پانی کم ہو رہا ہے اسہال کی بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف خلیج بنگال میں پورے چاند کی وجہ سے سمندر کی لہریں متاثر ہو رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||