بنگلہ دیش، انسانی بحران کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیلاب کی وجہ سے انسانی بحران کا خدشہ ہے۔ اب تک سیلاب کی وجہ سے تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ اموات ڈوبنے، بیماریوں اور سانپ کے کاٹنے سے واقع ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوارک نے خلیج بنگال میں اونچی لہروں سے متعلق خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی وجہ سے سیلاب کے پانی کی سطح کے جلد کم ہونے کا امکان نہیں۔ حکام کے مطابق ملک کا دو تہائی حصہ زیرآب آچکا ہے۔ جبکہ بھارت کے کچھ حصوں میں بھی سیلاب آیا ہوا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکے کا چالیس فی صد حصہ زیر آب ہے اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام بند ہو جانے کی وجہ سے ان علاقوں میں بو پھیل رہی ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں سڑکوں اور ریل کا نظام متاثر ہوا ہے اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ حکومت نے اب تک بین الاقوامی امداد نہیں مانگی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کے لیے اس کے اپنے وسائل کافی ہیں۔ تاہم کئی غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری سے مدد مانگی جائے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اگست میں جب خلیج بنگال میں پانی چڑھے گا تو صورتحال اور مخدوش ہوجائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||