بنگلہ دیش سیلاب، صورتحال نازک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں شدید سیلاب کے بعد اب بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ شہر کا تقریباً چالیس فیصد حصہ پانی میں مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے۔ کئی جگہوں پر سیوریج کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔ نالیاں رسنا اور ٹوٹنا شروع ہوگئی ہیں اور شہر کی گلیوں میں کھڑے سیلابی پانی میں گہرے رنگ کا آلودہ اور متعفن پانی ملنا شروع ہوگیا ہے۔ پہلے ہی ہزاروں افراد نے ہیضہ کی شکایت کی ہے۔ مون سون کی بارشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شہر کے لاکھوں افراد پینے کے لیے ٹیوب ویل کے پانی پر انحصار کرتے ہیں اور اب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹیوب ویل کا پانی بھی آلودہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ نلکوں کے پانی سے بھی بدبو آنے لگی ہے۔ شہر کی غریب آبادی کے لئے خصوصًا زندگی بہت مشکل ہوتی جارہی ہے۔ بے شمار کچے مکانات کم سطح کی زمین پر بنے ہوئے تھے جس کے باعث یہ کئی دنوں سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شہر کے کئی حصوں میں سفر کرنے ذریعہ صرف کشتیاں ہیں۔ جو لوگ کشتیاں خرید رہے ہیں ان کی شکایت ہے کہ کشتیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||