سیلاب: سات ارب ڈالر کا نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے سینیئر اہلکاروں کی ایک ٹیم بنگلہ دیش پہنچنا شروع ہو گئی ہے جہاں وہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے عالمی اشترکی عمل پر غور کرے گی۔ شمال اور شمال مشرق سے دریاؤں کا پانی آہستہ آہستہ اترنا شروع ہو گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اس بات کی تیاری کر رہا ہے کہ جیسے ہی پانی اترے وہ ممبر اراکین سے خوراک اور ادویات کی ترسیل اور بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے امداد مانگیں گے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کے مطابق سڑکوں، پلوں، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر اور مرمت کا تخمینہ سات ارب روپے لگا رہی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے کم از کم 30 ملین افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق ملک میں خوراک کی کافی مقدار موجود ہے لیکن مسئلہ اسے سیلاب سے متاثر علاقوں تک پہنچانا ہے۔ جیسے جیسے پانی کم ہو رہا ہے اسہال کی بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف خلیج بنگال میں پورے چاند کی وجہ سے سمندر کی لہریں متاثر ہو رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||