بنگلہ دیش: مدد کے لیے اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے لیے مدد کی ضرورت پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یہ بنگلہ دیش میں پچھلے چھ سال میں آنے والا شدید ترین سیلاب ہے۔ بنگلہ دیش کے فوڈ اینڈ ڈزاسٹر مینیجمینٹ وزیر چودھری کمال ابن یوسف نے کہا ہے کہ سیلاب میں فصلوں کے تباہ ہو جانے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب کی وجہ سے کئی لوگوں کا روزگار چھن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کا ساٹھ فیصد حصہ سیلاب کے پانی کی زد میں ہے۔ حکومت کے مطابق سیلاب سے ملک کو تقریباً سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک سیلاب کی وجہ سے لگ بھگ چھ سو لوگ مارے گئے ہیں اور کم ازکم تین کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ مسٹر یوسف نے بتایا کہ کم ازکم دو کروڑ افراد کو دسمبر تک حکومت سے امداد کی ضرورت پڑنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ذرائع کے علاوہ بنگلہ دیش کو بین الاقوامی امداد بھی مل رہی ہے۔ اقوام متحدہ اپنے رکن ممالک سے بنگلہ دیش میں امدادی کارروائی کے لیے مزید مالی امداد کے لیے اپیل کرنے والا ہے۔ ملک میں موجود امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں کھانے پینے کے اشیاء کا ذخیرہ ہے لیکن سیلاب کی وجہ سے کٹے ہوئے علاقوں تک امداد پہنچانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں سیلاب کا پانی کچھ کم ہو رہا ہے مگر بیماری پھیل رہی ہے۔ موسمی پیشنگوئیوں کے مطابق شمال اور شمال مشرقی بنگلہ دیش کے دریاوں کی سطح کم ہونے کا امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||