جنوبی ایشیا میں شدید سیلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شمال مشرقی حصوں بنگلہ دیش اور نیپال میں مون سون بارشوں کے بعد شدید سیلاب کی وجہ سے لگ بھگ بیس لاکھ لوگ بےگھر ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دریا برم پترمیں سیلاب کی وجہ سے بھارت میں کم ازکم سو لوگ مارے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب کی زد میں آ چکا ہے اور دیہاتی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں لوگ باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ نیپال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے چھتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پچھلے سال جنوبی ایشیا میں مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت کی ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ ترن گوگوئی نے کہا ہے کہ یہ گزشتہ چند سالوں میں آنے والے سب سے شدید سیلاب ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیلاب میں لگ بھگ چالیس لاکھ گھر تباہ ہو گئے ہیں اور اس کی وجہ سے تقریباً دس ارب روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 96 ہو گئی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور کشتیوں کی قلت کی وجہ سے بچاؤ کی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سیلاب سے جنوبی بھارتی ریاست بہار میں بھی لگ بھگ بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور اہم شہراہیں اور ریل وے لائنیں زیر آب ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے شمال مشرق میں تقریباً دس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ سلہٹ شہر کے کئی علاقے پوری طرح ڈوب گئے ہیں اور دارالحکومت ڈھاکہ کی طرف جانے والی شاہراہ بھی بند ہو گئی ہے۔ مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سلہٹ میں دو افراد اس وقت مارے گئے جب سیلاب کے پانی میں بجلی کی تاریں گر گئیں۔ پولیس اہلکار عبدالسلام خان کا کہنا ہے کہ سنام گنج ذلے کےگاؤں سمندر میں جزیروں کی مانند نظر آتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کے مطابق آنے والے دنوں میں اور بارش ہونے کا اندیشہ ہے جس سے دارالحکومت کے آس پاس کے علاقوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ نیپال میں بارشوں کی وجہ سے کئی اہم شاہراہیں بند ہو گئی ہیں اور دارالحکومت کٹھمنڈو باقی ملک سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ نیپال میں سیلاب سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقے بری طرح سے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||