سیلاب کی فتح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کا آدھے سے زیادہ حصہ سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ تقریباً پچیس لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور اب بیماری اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کی وجہ سے صورت حال مزید بگڑ رہی ہے۔ ڈھاکہ میں کچھ بچے تیز بارش میں ہنس کھیل رہے تھے۔ وہ اس بات سے بےخبر معلوم ہوتے تھے کہ ان بارشوں نے اس ملک کو نہایت ہی مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔ جمع ہونے والے پانی کے اوپر ڈنڈوں پر ٹکے ہوئے جھونپڑوں میں ان کے ماں باپ زندہ رہنے کے لیے مسلسل جدو جہد کر رہے تھے۔ شلپی شمانتو کے ایک کمرے پر مشتمل گھر کے بانس کے فرش پر پانی چڑھ آیا تھا۔ وہ ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اپنے بچوں سمیت رہنے اس لیے آئی تھیں کیونکہ ان کے خیال میں وہاں حفاظتی پشتے بنائے گئے ہیں جن کی وجہ سے وہ بنگلہ دیش میں ہر سال آنے والے سیلاب سے محفوظ ہوں گی۔ مگر اس سال سیلاب کو قابو میں رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
شلپی شمانتنو اپنے بچوں کی صحت کی طرف سے بہت فکر مند تھیں اور بیماری سے بچنے کے لیے ایک کنوے کا پانی استعمال کر رہی تھیں۔ چاروں طرف کیمیائی اشیاء اور گندگی کی بو تھی۔ شلپی کے گھر میں صرف آدھا گھنٹہ گزارنے کے بعد ہوا میں موجود کیمیا کی وجہ سے میرا چاندی کا قلم بینگنی رنگ کا ہو گیا تھا۔ حکومت شہر سے پانی نکالنے کی کوششیں کر تو رہی ہے مگر جن مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ بہت پرانی ہیں اور بارشیں ابھی رکی نہیں ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ انسان اور قدرت کے درمیان مقابلے میں قدرت کی فتح ہو رہی تھی۔ دارالحکومت میں تو پھر بھی صورت حال بہتر ہے مگر دیہات میں سوکھی زمین مشکل سے ہی ملتی ہے۔ مون سون کی بارشیں ستمبر تک چلنے کا اندیشہ ہے اور بنگلہ دیش میں سیلاب کی وجہ سے بیماری اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کے مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ضرورت مندوں میں چاول بانٹے جا رہے ہیں مگر ضرورت مندوں کی تعداد اور ان کی ضرورت کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور جب تک سیلاب اترے گا نہیں، بڑھتی ہی جائے گی۔ بنگلہ دیش میں لاکھوں لوگ کاشت کار ہیں اور عام طور پر مشکل سے اپنی اور اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کر پاتے ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے وہ پوری طرح سے بے بس ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے لیے سیلاب نعمت بھی ہیں اور مصیبت بھی۔ سیلاب کی وجہ سے ہی اس علاقے کی زمین اتنی زرخیز ہے۔ اپنے ڈوبے ہوئے کھیتوں کے کنارے بیٹھے ہوئے ایک کاشت کار نے مجھے بتایا کہ اگلے سال فصل اچھی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||