بنگلہ دیش: تباہ کن سیلاب کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں سیلاب سے متاثر تین کروڑ باشندوں کی مصیبت جلد ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کا چالیس فیصد حصہ زیر آب ہے۔ اور امدادی ایجنسیاں خبردار کررہی ہیں کہ جب پانی اترے گا تو بیماریاں پھیلنے کا شدید اندیشہ ہے۔ بار بار سوال پوچھا جارہا ہے کہ اس بار سیلاب اتنا شدید کیوں ہے۔ اس سوال کا ایک جواب تو یہی ہے کہ بنگلہ دیش چار دریاؤں کی راستے میں ہے۔ پدما، جسے عام طور گنگا کہتے ہیں، برہمپترا، جمنا اور میگھنا۔ان چاروں میں ہمالیہ کی پگھلی برف بہہ رہی ہے۔ برسات کا موسم یوں تو ہمیشہ بنگلہ دیش میں سیلاب لاتا ہے لیکن جیسی تباہی اس بار آئی ہے اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔عموماً ہر دس سال کے بعد بڑا سیلاب آتا ہے۔ 1988 میں بڑا سیلاب آیا تھا اور پھر 1998 میں۔ اس مرتبہ تین سال پہلے ہی اتنی بڑی تباہی نے چھاپہ مارا ہے۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جنگلوں کی کٹائی جس سے زمین پانی کو جذب نہیں کرپاتی۔ کاشت کاری کے لۓ نہروں کا استعمال۔ اس سے دریاؤں میں مٹی جمع ہو جاتی ہے اور سمندر میں پانی تیزی سے نہیں جا سکتا۔ ماہرین موسمیات عالمی حدت کو بھی ایک وجہ بتا رہے ہیں اور کہتے ہیں اس برسات میں زیادہ بارش بھی اسی لیے ہوئی ہے اور پہاڑوں پر برف پگھل گئ ہے۔ سیلاب کی تباہ کاری میں جو شدت ہے اس کی وجہ بتاتے ہوئے بابو عالم نے کہا کہ ملک کی غربت سیلاب کا سامنا کرنے کی تاب نہیں لارہی ہے۔ بابو عالم جدید مطالعاتی مرکز میں ریسرچ کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی کمی اور کمزور بنیادی ڈھانچہ نے معاملے کو اور نازک بنا دیا۔ ظاہر جب یہ ہوگا تو بنگلہ دیش کی طرح کے ملک موسمیاتی تبدیلیوں کا نقصان زیادہ اٹھائیں گے۔ بابو عالم کا کہنا ہے کہ اگر ملک کو سرمایہ مل سکے تو سیلاب کے خطرے سے آگاہ کرنے کا نظام نصب کیا جاسکتا ہے اور بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اور زیادہ سرمایہ سیلاب اترنے کے بعد لوگوں کی دوبارہ آباد کاری کے کام آسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ معلومات کے تبادلے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک بے خبری میں سیلاب کی چنگل میں نہ آجائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||