ہماچل کو تبتی سیلاب کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں تبت کے ایک دریا کی طغیانی سے زبردست خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس سے نمٹنے کے لیۓ ہیلی کاپٹر اور فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ تبت کے " پاریچو" دریا میں چٹانیں گرنے سے پانی گزرنے کا راستہ بند ہو گیا ہے اور دریا کے ایک بڑے حصے نے گہری جھیل کی شکل اختیار کر لی ہے ہندوستان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نو تیج سرنا نے چینی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جھیل کی مصنوعی دیواروں میں شگاف نہیں پڑے رہے ہیں اور پانی اب باندھ کے اوپر سے بہ رہا ہے لیکن ظاہر ہے بند محفوظ نہیں ہے ۔ ہندوستانی حکومت نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلےمیں مدد کرے لیکن چین نے کہا ہے کہ وہ علاقہ دور دراز کے پیچیدہ اور دشوار گزار خطے میں ہے ۔زبردست بارش اور چٹانیں ٹوٹنے کے سبب اس مرحلے پر وہاں پہنچنا مشکل ہے۔ تبت کا دریائے پاریچو ستلج ندی کا معاون ہے اور اگر اس پر بننے والی مصنوعی جھیل کا احاطہ ٹوٹ گیا تو سیلابی پانی سے ہماچل پردیش کے کئی خطوں میں سیلاب کی خطرناک صورت حال پیدا ہو جائے گی یہی وجہ ہے کہ فوج کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیۓ تیار رہنے کو کہا گیا ہے اور کئی مقامات پر وائرلیس دیۓ گئے ہیں اور خطے کے مختلف گاؤں کو خالی کرا لیا گيا ہے۔ سن دو ہزار میں بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں متعدد گاؤں سیلاب کی زد میں آگئے تھے اور کم از کم سو افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||