ہیٹی: طوفان سے چھ سو سے زیادہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ہیٹی میں جینی نامی طوفان سے جزیرے میں سیلاب کی تباہی سے اب تک چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ صرف گونائیوس کے ساحلی علاقے میں امدادی اداروں کے کارکنوں نے پانچ سو لاشیں گنی ہیں۔ ہلالِ احمر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مرنےوالوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافی ہو رہا ہے۔ دو روز سے مسلسل جاری رہنے والی بارش سے پورے کے پورے مکان بہہ گئے ہیں اور بعض جگہوں پر تو پانی مکانوں کی تیسری منزل پر بھی پہنچا ہے۔ لاٹورچو کا جزیرہ پانی میں تقریباً پورا ڈوب چکا ہے۔ اینزہیوک نےجو ریڈ کراس کی فیڈریشن کے صدر ہیں بی بی سی کے ورلڈ ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ امدادی کام شروع تو ہوگیا ہے مگر لوگوں تک پہنچنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ طوفان کی وجہ سے ہیٹی کی ہمسایہ ڈومینیکن ریپبلک میں بھی گیارہ افراد مارے گئے ہیں۔ گونائیوس میں جو سب سے بڑا شہر ہے، دو لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً اسی فیصد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ پورٹ ڈی پیکس میں چھپن افراد کے مارے جانے کی خبر ہے۔ ہیٹی کے عبوری وزیرِ اعظم نے سیلاب کے پانی کو بہت بڑا سمندر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری اس صورتِ حال میں مدد فراہم کرے۔ خوراک کے عالمی پرواگرام کا کہنا ہے کہ اس نے بارہ ٹرکوں پر مشتمل خوراک کا پہلا قافلہ متاثرہ علاقے میں روانہ کر دیا ہے۔ ان ٹرکوں میں چالیس ٹن امدادی خوراک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||