بحرہند: زلزلے، طوفان، سات ہزار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحر ہند میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی دیوہیکل لہروں نے انڈونیشیا سے بھارت اور افریقہ میں صومالیہ تک کے ساحلی علاقوں کو اپنی زد میں لے لیا ہے جس کے نتیجے میں سات ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور بےگھر، لاپتہ اور زخمیوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جارہی ہے۔ اتوار کی صبح آنے والے زلزلے اور طوفانی لہروں سے جنوبی بھارت اور سری لنکا سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کے جنوبی ساحل پر واقع ریاستوں آندھر پردیش، تامل ناڈو اور کیرالہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی گئی ہے جبکہ سینکڑوں ماہی گیر ابھی لاپتہ ہیں۔ تامل ناڈو کا دارالحکومت چیننئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چیننئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ اس زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے صوبے آچے میں سماٹرا کے شمال میں تھا جہاں اس کی شدت زلزلۂ پیما پر آٹھ اعشاریہ نو تھی۔ یہاں دس میٹر اونچی پانی کی لہروں نے کئی گاؤں اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گزشتہ چالیس برسوں سے میں یہ سب سے شدید ترین زلزلہ تھا۔ سن انیس سو (1900)کے بعد یہ پانچواں بڑا زلزلہ بتایا جاتا ہے۔ انڈونیشیا میں ایک حکومتی اہلکار نے بتایا کہ ایک ہزار آٹھ سو سے زائد افراد ان طوفانی لہروں سے ہلاک ہوگئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ایک گاؤں میں لاشوں کو درختوں سے لٹکے ہوئے دیکھا۔ سری لنکا میں حکام نے بتایا ہے کہ دو ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور دس لاکھ لوگ بے گھر اور زخمی ہوگئے ہیں۔ سری لنکا کی فوج متاثرہ لوگوں کو امداد پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ ملک کی صدر چندریکا کمارا تنگا نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔ سری لنکا اور جنوبی بھارت میں ہلاکتوں کی تعداد کے بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ ہزاروں ماہی گیر لاپتہ ہیں۔ تھائی لینڈ میں، جہاں سینکڑوں غیرملکی سیاح کرسمس کی چھٹیاں منارہے تھے، ہلاکتوں کی تعداد دو سو سے زائد بتائی گئی ہے۔ تھائی لینڈ کے ساحلی شہر پھوکیٹ کی بیچ پر کئی سیاح طوفان کے ساتھ سمندر میں بہہ گئے اور سینکڑوں زخمی بتائے گئے ہیں۔ ملائیشیا اور میانمار میں بھی درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس زلزلے کی وجہ سے پیدا ہونے والی طوفانی لہریں افریقہ کے ساحل تک پہنچ گئیں اور اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے ساحل پر ماہی گیروں کی کشتیاں ان کی زد میں آگئیں جن کی وجہ سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی بارے میں:
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||