 |  ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے |
اتوار کی صبح بحر ہند میں آنے والے زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی طوفانی لہروں سےانڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے لیکر بھارت، مالدیپ اور سری لنکا تک چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ان زلزلوں سے لاکھوں لوگ بےگھر اور متاثر ہوئے ہیں۔ سری لنکا اور بھارت میں ہلاکتوں کی تعدداد ہزاروں میں ہے اور ہزاروں ماہی گیر لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ اس زلزلے کے بارے میں اپنے تاثرات ہمیں بھیجئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ارشد حسن خان، پاکستان: اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ یہ اس وقت ہوگا جب ہم اللہ سے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ گناہوں سے بچیں۔ نماز کی پابندی کریں اور اللہ کے عذاب سے پناہ مانگیں۔ :امتیاز قہر، کراچی، پاکستان اس سانحہ کی خبر ٹی وی پر دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کاش کے بحر ہند میں کوئی الارم سسٹم نصب ہوتا۔ الماس بی بی، جرمنی: انسانوں کو اس زلزلے سےایک سبق حاصل کرنا چاہئے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے۔ جب انسان اللہ کو بھول جاتے ہیں اور دنیا داری میں مصروف ہو جاتے ہیں تو اللہ ان پر عذاب نازل کرتا ہے۔ عطیہ مصطفٰی،کینیڈا: یہ آزمائش کی گھڑی ہے۔ ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد کرنی چاہئے اور خدا سے معافی مانگنی چاہئے۔ امبرین بنگش، کینیڈا: اگر ہم ان لوگوں کے پاس جاکر ان کی مدد نہیں کر سکتے تو ہمیں چاہئے کے ان کی مالی امداد کرنے والوں میں شامل ہوجائیں۔ اُن مملک سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم شہریوں کے ساتھ مل کر ہم بھی امداد کرنے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ جب دنیا سے انصاف ختم ہوجائے اور ہر جگہ ناانصافی ہو رہی ہو تو اللہ تعالٰی اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ ہمیں چاہئے کے جس حد تک ہو سکے اس امداد میں حصہ لیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی توبہ کریں۔ سعید جمسا، کراچی: اس المناک واقع کے بعد ہماری دینی اور اخلاقی ذمےداری ہے کہ ہم ان تباہ شدہ علاقوں اور وہاں کے مکینوں کی بھرپور مدد کریں اور وہاں کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کریں۔ کرن جِبران، کینیڈا: بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف انسان دوسرے انسان کے ہی ظُلم کا شکار ہے اور دوسری طرف سے خُدا کے عذاب کا شکار ہے۔ کاش کہ ہم ان کی وجوہات سمجھ سکیں۔ قیصر، چین: کافی افسوس ہوا کے اتنی زیادہ جانیں ضائع ہو گئیں۔ اطہر جمال، پاکستان: اس آفت کا سُن کر بہت دُکھ ہوا۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے اور اپنے حِفظ و امان میں رکھے۔ قاری حنیف اللہ، سوات ، پاکستان: جب دنیا میں بے حیائی بڑھ جائے تو اس قسم کے زلزلے آتے ہیں۔ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے عذاب ہے۔ ہمیں توبہ کرنی چاہئے۔ نفیس بزمی، لاہور، پاکستان: یہ وہ وقت ہے جب تمام قوموں کو سرحدوں کو نظرانداز کر کے آپس میں ہاتھ ملانا چاہئے اور آگے بڑھ کر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔ اللہ ان مصیبت کے شکار لوگوں اور ان کے رشتہ داروں کو صبر عطا کرے۔ خلیل جِبران، لاہور، پاکستان: اتنی بڑی خبر سُن کر افسوس ہی ہو سکتا ہے۔ لگتا ہے خدا کافی برہم ہے انسانوں پر اور اس غصہ کا اظہار اس طوفان کے ذریعہ ہوا ہے کہ شاید انسان بیدار ہو جائیں اور سیدھی راہ پر لوٹ آئیں۔ فراز قُریشی، سندھ، کراچی: انسان جہاں بھی مریں، دکھ پوری دنیا کو ہوتا ہے۔ اگر کسی نے طوفان میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں دیکھی ہیں تو اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور آئے ہوں گے۔ اللہ ہم قدرت کے آگے بے بس اور مجبور انسانوں پر رحم کرے۔ علی، کینیڈا: یہ انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کی آفات انسان کی غلطیوں اور برے کاموں کے نتیجے میں آتی ہیں۔ اللہ سب کو سیدھی راہ پر چلنے کے توفیق عطا فرمائے اور بنی نوع انسان پر رحم کرے۔ شاہداہ اکرم، ابوظہبی: کیا کہہ سکتے ہیں اس آفت کے بارے میں؟ یہ کوئی انسانی کارروائی تو ہے نہیں جس کی مزاحمت کے جائے۔ دُعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی آزمائش میں کمی کر دے۔ اس بات کی حیرانگی ہے کہ زلزلے کی پیشگی اطلاع کیوں نہ ہوئی؟ مہتاب خان، آسٹریلیا: کہا جا رہا ہے کہ بحرہند میں اس قسم کے طوفان نہیں آتے اس لیے لوگوں کو خبردار کرنے کا نظام نہیں ہے۔ یہ ہمارے رب کی طرف سے وارننگ ہے۔ ہم نے قرآن کی تعلیمات کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اللہ ہم سب کے گناہ معاف فرمائے۔ ہم اللہ سے اس کی رحمت کے طلب گار ہیں۔ خدیجہ سِراج انصاری، کراچی: اتنی بڑی تباہی پر یقیناً افسوس ہے اور دل غمگین ہے۔ اللہ ان لوگوں کو ہمت اور حوصلہ دے۔ سید فیض اُللہ، بحرین: یہ اللہ کے عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کتنا بےبس ہے ۔ اللہ کے کام اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ سے رحم کے دُعا کرنی چاہئے۔ خالد گرمانی، پاکستان: اللہ پاک کے طرف سے آنے والی آفات پر بھلا کوئی کیا رائے دے سکتا ہے۔ قدرتی آفات کو نہ ہی کوئی روک سکا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ یہ قیامت کے اثرات ہیں بلکہ آدھی دنیا تو پہلے ہی قیامتِ صغیرہ کے زد میں ہے۔ ہم متاثرین کے لیے دُعاگو ہیں۔ اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں دوسرے انسان کو انسان سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بہت ہی خوفناک سانحہ ہے، جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ سید سمیع حُسین، کراچی: اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ مجھے اس سانحہ پر بہت افسوس ہے۔ پاکستان کی حکومت کو چاہیے کے وہ اس کڑے وقت میں اپنے برادر ممالک کی مدد کرے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ مُحمد مزمل صدیقی، کراچی: انسانی ہلاکت پر بہت دُکھ ہوا ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ سب کی مشکلات دور کرے۔ جاوید جمال الدین، انڈیا: اس زلزلے کے خبر سُننے اور ٹی وی پر مناظر دیکھنے کے بعد مجھے 1993 کا جنوبی مہاراشٹرہ کے علاقے لاتُر کا زلزلہ یاد آگیا۔ وہ مناظر میری آنکھوں میں گھوم گئے کیوں کہ میں نے اس زلزلے کی رپورٹنگ کے تھی۔ ایشیاء میں آنے والا یہ طوفان انتہائی بھیانک تھا۔ افسوس اس کی پیشگی اطلاع نہیں دی جا سکی اور یہی چیز انسان کو اس کی اوقات واضح کر دیتی ہے۔ غلام فرید شیخ، سندھ: ایسے موقع پر اللہ پاک سے ہی رحم کی اپیل کی جاسکتی ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان تمام ممالک کی امداد کی جائے اور ان کا خیال رکھا جائے۔ اللہ پاک کسی پر بھی ایسی مصیبت نہ لائے، چاہے دوست ہو یا دشمن۔ مصطفٰی احمد پراچہ، کراچی: سانحہ کے بارے میں سن کر اور دیکھ کر نہایت دکھ ہوا مگر ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہم پر جو بربادی آتی ہے وہ ہمارے اپنے کرموں کا پھل ہوتا ہے۔ فاحد تسلیم، پاکستان: ہم سب مسلمان دکھ میں ہیں اور دُعاگوہ ہیں کہ ہلاکتیں مزید نہ بڑھیں۔ ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں جو اس سانحہ کا شکار ہوئے ہیں۔اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ اللہ انھیں اس مشکل کا مقابلہ کرنے کے ہمت عطا کرے،امین۔ امجد علی ، کراچی: بہت دکھ کی بات ہے لیکن ہم سب کو مل کر اس حادثے کا مقابلہ کرنا ہے۔ طارق محمود، سعودی عرب: اللہ اس زلزلے کا شکار ہونے والوں پر رحم کرے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ ہماری برے کاموں کا نتیجہ ہے۔ ہم سب اللہ کو بُھلا چکے ہیں، اللہ جو پوری کائنات میں سب سے افضل طاقت رکھتا ہے۔ ہم انسان آج ہر جگہ دوسرے انسانوں کا خون بہا رہے ہیں مثلا عراق ، کشمیر اور فلسطین میں۔ انسانی خون آج بہت سستا ہوگیا ہے۔ ہم سب کو اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی بخشش کی بھیک مانگنی ہو گی۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے۔ ظہور خان، عرب امارات: یہ انسانوں کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں نظر دوڑائیں، آج عراق کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ قدرت جب انتقام لیتی ہے تو پھر کوئی طاقت دم نہیں مار سکتی اور پھر گناہ گاروں کے ساتھ مظلوم لوگ اور بےگناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے کہ سوکھی کے ساتھ گیلی کو بھی جلنا پڑتا ہے۔ اللہ جب پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ اللہ ہم سب پر اپنا فضل کرے۔ ضیاءالحسن، پشاور، پاکستان: ایک مسلمان اور ایک پاکستانی ہونے کے ناطے مجھے اور ہم سب کو اس تباہی سے دوچار ہونے والوں سے پوری پوری ہمدردی ہے اور ہم ان کے لیے بہت زیادہ درد محسوس کرتے ہیں۔ ایک بات میں ضرور کہوں گا کہ زلزلہ وہاں ہی آتا ہے جہاں حرام چیزیں زور پکڑ لیتی ہیں۔ خواجہ معین الدین، جدہ، سعودی عرب: یہ اللہ تعالٰی کا عذاب ہے۔ ہم سب کو غور کرنا چاہئے اور اپنے اعمال درست کرنے چاہئے۔ شہزاد احمد، سعودی عرب: انسان کتنی بھی ترقی کر لے آسمانی آفات سے نہیں بچ سکتا۔ ہم صرف وہا ں کے لوگوں کے لیے دُعا کر سکتے ہیں کہ اللہ ان پر کرم کرے۔ محمد ابیر خان، چترال، پاکستان: یہ اس دور کا طوفانِ نوح ہے اور عقل والوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں چھپی ہیں۔ طاہر سید، تھائی لینڈ: میں بی بی سی پر انڈونیشیاء سے جُڑے ایک جزیرے پر ایک آتش فشاں کے بارے میں پڑھ ُچکا ہوں جو بہت خطرناک ہے۔ جب میڈیا پر اس قسم کے خبر آتی ہے تو اس سے منسلک حکومت حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کرتی؟ باقی اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ سید رضا احمد، دبئی: یہ اللہ کو پہچاننے کا وقت ہے۔ انسان کے بس میں بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور بنی نوع انسان کو ان آفتوں سے محفوظ رکھے۔ پوری دنیا کو اور خاص طور پر امیر ممالک کو مل کر اس سانحہ کے شکار ممالک کی مدد کرنی چاہئے۔ محمد عمر خان، کراچی: بنی نوع انسان نے ترقی کی بےشمار منزلیں طے کر لی ہیں لیکن اس طرح کے حادثات سے بچنا ناممکن نظر آرہا ہے اور سائنسی ترقی بھی اس معاملے میں بے بس نظر آتی ہے۔ پچھلے سال ایران کے شہر بام اور اب بحرہند میں زلزلے کی تباہ کاریوں پر دل غم زدہ ہے۔ ملک ظہیرالدین، لاہور، پاکستان: اگر کوئی سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ انسانوں کے غلط کاموں کی وجہ سے اللہ کا قہر ہے۔ محمودالحق، کراچی: مجھے کل شام معلوم ہوا کہ زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں بارہ ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ اللہ سب کو ہدایت دے اور مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ ظفر اقبال، راوالپنڈی، پاکستان: یہ محض اللہ پاک کے قہر اور غضب کی ایک جھلک تھی۔ جب تک اللہ کے قانون کو سرِعام توڑا جائے گا اس قسم کے عذاب آتے رہیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کے ہم سچے دل سے اپنے گناہوں کے معافی مانگیں اور نافرمانی کے زندگی سے بچیں۔ اشفاق یوسف زئی، کراچی: کوئی بھی انسان جو اس دنیا میں ہے اس کی جان قیمتی ہے۔ زلزلے اللہ کی طرف سے آّزمائش ہوتے ہیں۔ ہمیں انفرادی طور پر اور باالحثیت قوم صبر کرنا چاہئے۔ میں پاکستانی عوام کی طرف سے ان تمام لوگوں کے لیے دُعاگو ہوں کہ اللہ ان کو صبر کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے توفیق عطا فرمائے۔ فیاض، لاہور : انسانی ہلاکتوں پر افسوس ہے۔ باقی متاثرہ زندگیاں بچانے کے لیے ہمیں دل کھول کر ان لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرنی چاہئے۔ یامین، کراچی: انسان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اللہ کی طاقت کو تسلیم کر لے اور صرف ایسی زندگی گزارے جو اللہ کے آخری نبی نے سکھائی ہے۔ کرن مرزا، کینیڈا: یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنے بڑے طوفان کی وارننگ پہلے نہیں دی گئی۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس طرح کے آزمائش سے بچائے۔ سب ممالک کو متاثرین کی مدد کرنی چاہئے تاکہ اور جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں۔ ابھی ان کو سب سے زیادہ طبی امداد کی ضرورت ہے اور پھر رہنے کے لیے چھت اور کھانے کے لیے خوراک کی۔ عفاف اظہر، سکاربرو، کینیڈا: انسانی تباہی کے بارے میں یہ پڑھ کر کافی دل دکھا ہے۔ خدا رحم کرے بنی نوع انسانیت پر۔۔۔ سی روڈریگو، کولمبو: مقامی ریڈیو بتا رہا ہے کہ کولمبے کے صرف ایک ساحلی علاقے ہمبنتوتا میں ایک ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اور طوفانی لہریں ریلوے لائنوں تک پہنچ گئی ہیں اور کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ روی شنکر، چیننئی: اب تک کم سے کم دو ہزار لاشیں نکالی گئی ہیں۔ ویلنکانی کے قریب ایک ہزار لاشیں ملی ہیں۔ یہ لوگ ماس میں شرکت کررہے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ عبدل، دوبئی: اتنے بڑے زلزلے کے لیے پہلے سے وارنِنگ کیوں نہیں دی گئی تھی؟ کے پرسننا، کولمبو: میں صبح جوگِنگ کررہا تھا جب میں نے شور سنا، اور اس کے ساتھ ہی طوفانی لہریں آئیں اور پورا علاقہ سیلاب سے بھر گیا۔ دکانیں اور چھوٹے مکانات گرگئے ہیں۔ لوگ محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ فوج لوگوں کو امداد پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ وجے، چیننئ: میں نے تھیرووتیور بیچ میں سمندر کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا، کئ کشتیوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا، ماہی گیروں کو بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ کئی ماہی گیر کشتیوں میں تھے لیکن باہر نہیں نکل سکے، صرف ایک ہیلی کاپٹر انہیں بچانے کے لیے گیا ہے، لیکن یہ صرف مرینا بیچ گیا ہے۔ عمران، ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں تیس اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تالابوں میں پانی کی سطح بلند ہوتی رہی، صبح سوا سات بجے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چٹاگانگ میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ ٹیلی ویژن پر رپورٹوں کے مطابق کئی لوگوں کے گھروں میں پانی آگیا ہے۔ السندور، ماہے، سیشیلیس: پورا ماہے شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور دوسرے جزیروں کو صاف کیا جارہا ہے۔ اییئن جیفری، پھوکیٹ: ہم نے دیکھا کہ بیچ پر واقع ہمارا بنگلا طوفان سے سمندر میں بہہ گیا۔ اس کے بعد پھر دو طوفانی لہریں آئیں۔ پولیس نے ہمیں یہ جزیرہ چھوڑنے کو کہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کدھر جائیں۔ کے اینتھنی، مالدیپ: میں مالدیپ کے ساؤتھ اری اٹول میں موجود ہوں۔ ہم متاثر نہیں ہوئے۔ ہمارے شمال میں اونچے جزیروں کی وجہ سے ہم بچ گئے۔ ہمارے پاس غذا، پانی اور بجلی دستیاب ہے۔ مالے کا ہوائی اڈہ جلد ہی پھر سے کھلنے والا ہے۔ شاہد شان، امریکہ: ہم سوائے افسوس اور دعاء کرنے کے اور کر بھی کیا کرسکتے ہیں۔ کیونکہ آلودگی ہم پھیلارہے ہیں، ماحول کو ہم گندا کررہے ہیں، اس طرح تو ہونا ہی ہے، ابھی آغاز ہے۔ |