BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحرِ ہند بپھر گیا، ہزاروں افراد ہلاک
سمندری طوفان
بھارت اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کےمختلف ممالک میں زلزلوں سے پیدا ہونے والی طوفانی لہروں کے باعث پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت آٹھ عشاریہ نو ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ گذشتہ چالیس برس میں آنے والا شدید ترین اور بیسویں صدی کے آغاز سے اب تک کا پانچواں بڑا زلزلہ ہے۔

اس طوفان سے انڈونیشیا سے بھارت تک تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔

جنوبی بھارت کے ساحلی علاقے اس زلزلے کے نتیجے میں آنے والے سمندری طوفان سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پندرہ سو افراد طوفانی لہروں کی نذر ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں ماہی گیر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے کاکیناڈا کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس نےماہی گیروں کو کشتیوں سے چمٹے ہوئے دیکھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ میں لاتعداد کشتیوں کو سمندر میں الٹتے دیکھ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کاغذ کی بنی ہوئی ہوں‘۔

مدراس کے پولیس حکام کے کہنا ہے کہ شہر کے مختلف ساحلوں سے کم از کم ڈیڑھ سو لاشیں اٹھائی جا چکی ہیں۔

زلزلے اور طوفان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں
سری لنکا 2000 افراد
بھارت 1500 افراد
انڈونیشیا 1800 افراد
تھائی لینڈ 150 افراد
سرکاری اعدادوشمار

سری لنکا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک سمندری لہروں سےدو ہزار لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ سری لنکا کے ساحلی شہر ترنکومالی کے چھ نواحی گاؤں تباہ ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف سری لنکا میں اس طوفان سے دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

سری لنکن صدر چندریکا کمارا ٹنگا نے اس طوفان کو قومی آفت قرار دیا ہے اور بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پانچ میٹر اونچی لہروں نے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے اور ابھی تک اٹھارہ سو کے قریب افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

جکارتہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق متاثرہ علاقے میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے نقصان کا اندازہ لگانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

تھائی لینڈ کے حکام نے ابھی تک سو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پھوکٹ کے تفریحی مقام میں بہت سے سیاح اچانک پیدا ہونے والی طوفانی لہروں میں بہہ گئے ہیں۔

تھائی لینڈ کے تفریحی جزیرے ’پھی پھی‘ پر سینکڑوں گھر طوفان کی نظر ہوگئے ہیں۔ ایک تفریحی مرکز کے مالک کا کہنا تھا کہ’مجھے خدشہ ہے کہ خیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد سمندر میں بہہ گئی ہے‘۔

بنگلہ دیش اور مشرقی بھارت میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

News image

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد