چین: طوفان سے تریسٹھ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے شمال میں آنیوالے ایک طاقتور سمندری طوفان میں کم سے کم تریسٹھ افراد ہلاک اور اٹھارہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ جمعرات کے اس طوفان کی آمد سے قبل چینی حکام نے چار لاکھ پندرہ ہزار سے زائد افراد کو ژزینگ صوبے کے ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات پر پہنچا دیا تھا۔ ساحلی شہر وینگلِنگ میں ایک ڈاکٹر نے بتایا: ’دکانوں کے سائن بورڈ فضا میں اڑ رہے تھے اور لوگوں کے ہاتھ پیر پر چاقو کی طرح آٹکراتے تھے۔‘ علاقے میں کم سے کم پندرہ لوگ لاپتہ ہیں اور لگ بھگ ساٹھ افراد سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ چین میں انیس سو ستانوے کے بعد یہ سب سے بڑا طوفان ہے۔ اس وقت دو سو چھتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکام نے کہا ہے کہ سیلاب اور زمین کا کٹاؤ اور مٹی کے توندے گرنے سے مکانیں اور انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق اب تک دوہزار دو سو مکان تباہ ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ طوفان تائیوان سے ہوکر آیا جہاں اس کی زد میں ایک سڑک پر کام کرنے والا مزدور ہلاک ہوگیا۔ چین میں اس سال قدرتی آفات کی وجہ سے ساڑھے چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے چین کو چار بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||