BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کس کس کو روئیں‘: زلزلے کی آپ بیتیاں
مائیں کس کس کو روئیں گی؟
مائیں کس کس کو روئیں گی؟
اتوار کی صبح بحر ہند میں آنے والے زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی طوفانی لہروں سےانڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے لیکر بھارت، مالدیپ اور سری لنکا سے اب تک بیس ہمار سے زائد انسانی ہلاکتوں کی خبر آچکی ہے اور اندیشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ بی بی سی ڈاٹ کام کے کچھ قارئین نے ہمیں اس تباہی کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجا ہے جو درج ذیل ہے۔ اگر آپ یا آپ کے کوئی جاننے والے ان حالات کا شکار ہوئے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

جو ہم پر بیتی

فون کال
ایک ایسی فون کال کرنا مشکل ہے جس سے بری خبر موصول ہونے کا اندیشہ ہو۔
گرائم پیٹرز، کولمبو

گرائم پیٹرز، کولمبو:
ابھی ابھی میری ایک دوست سے بات ہوئی جو اپنے اندر یہ ہمت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ فون کر کے طوفان کا شکار ہوئے لوگوں کا احوال معلوم کر سکے۔ ایک ایسی فون کال کرنا مشکل ہے جس سے بری خبر موصول ہونے کا اندیشہ ہو۔ سڑکیں سنسان ہیں اور لوگ معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے کوشش کر رہے ہیں جو بظاہر بہت مشکل ہے۔ ایک ایسی بری خبر کے خوف سے ہی جو ابھی ہم نے سُنی بھی نہیں ہے، پریشانی ہوتی ہے اور کام پر توجہ دینا مشکل ہو گیا ہے۔ میرے لیے اپنی دو سالہ بیٹی کو لوگوں کے رونے کی وجہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے ۔
بچانے والا بھی۔۔۔
 ایک آدمی جو ایک بچے کو بچانے کے لیے اس کے طرف دوڑ رہا تھا دل کا دورہ پڑ نے سے مر گیا اور بچہ ڈوب گیا۔
گرائم پیٹرز، کولمبو

ہماری ایک ہوٹل میں آج کی بُکنگ تھی جو طوفان میں تباہ ہوگیا ہے۔ ممکن تھا کے ہم بھی بحر ہند میں ڈوب جاتے۔ ایک آدمی جو ایک بچے کو بچانے کے لیے اس کے طرف دوڑ رہا تھا دل کا دورہ پڑ نے سے مر گیا اور بچہ ڈوب گیا۔ یہاں کولمبو میں جہاں کوئی بھی براہ راست طوفان کا شکار نہیں ہوا لیکن ہر شخص کسی ایسے دوسرے شخص کو ضرور جانتا ہے جو اس طوفان کی زد میں آیا ہے اور اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو کھو چُکا ہے۔


نورالاسلام شیخ، کوالا لمپور، ملیشیا:
میں ملیشیا کے علاقے روانگ میں، جو کہ کوالالمپور سے تقریباً اٹھائیس کلو میٹر دور ہے، ایک دس منزلہ عمارت کی نویں منزل کے ایک فلیٹ میں رہتا ہوں۔ چھبیس تاریخ کو صبح ساڑھے سات بجے اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نے شور سنا۔ تمام لوگ نیچے کی طرف بھاگ رہے تھے۔

ایسا زلزلہ نہیں دیکھا
 میں نے محسوس کیا کہ ہماری عمارت بری طرح جھوم رہی ہے۔ میں بری طرح خوف زدہ ہوگیا اور میں نے بھی نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔
نورالاسلام شیخ، کوالا لمپور

میں اپنے پورے ہوش وحواس میں تھا اور میں نے محسوس کیا کہ ہماری عمارت بری طرح جھوم رہی ہے۔ میں بری طرح خوف زدہ ہوگیا اور میں نے بھی نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔ نیچے لوگوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ زلزلے تو میں نے پہلے بھی دیکھے ہیں لیکن اس طرح کا شدید زلزلہ پہلی بار دیکھا ہے۔ اللہ ہمیں اس طرح کی آفات سے محفوظ رکھِے


میلکم اور جیمز سپونر، تھائی لینڈ:
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری جان بچ گئی۔ ہم صبح ساڑھے سات بجے پتنگ سے کشتی پر فنگ نگا کے لیے روانہ ہوئے۔ لیکن طوفانی لہروں سے بچنے کے لیے سفر بیچ میں منقطع کرنا پڑا۔ دو روز قبل جس کشتی پر ہم فی فی گئے تھے وہ ڈوب چکی تھی۔ ہمیں یقین ہے کہ فی فی میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے ہوں گے۔

افراتفری کے کئی چہرے
 فِی الوقت ہر شخص طوفان کی دوسری لہر کی آمد سے خوفزدہ ہے۔ اِنھی افواہوں سے آج کم از کم دو مرتبہ افراتفری پھیل چکی ہے۔
میلکم اور جیمز سپونر، تھائی لینڈ

ہم گزشتہ شب گھر نہیں آسکے تھے اور ہمیں ایمرجنسی کیمپ میں رُکنا پڑا جہاں بہت سے لوگوں جو اپنے عزیز و اقارب کھو چکے تھے۔ ان لوگوں کی دردناک داستانیں سننے کو ملیں۔ ان میں ایسے لوگوں کی کہانیاں تھیں جنہوں نے اُڑتے ہوئے شیشوں کے باعث اپنے جسم کا کوئی حصہ کھو دیا اور جو ڈوبنے سے بال بال بچے تھے۔ تھائی لینڈ کے لوگ بہت مدد گار ثابت ہوئے جنھوں نے ہمارے لیے فوری طور پر مفت خوراک ، پانی اور رہنے کے لیے جگہ فراہم کی۔ آج پتنگ کا علاقہ تباہی کا مرکز بن چُکا ہے۔ سمندر سے پانچ میٹر تک کے علاقے میں تمام کاروبار اور گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ گیا ہے اور آنے والے کچھ عرصہ تک لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی کام نہ ہوگا۔ لاشوں کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔ ہم نے گاڑیوں کو ہسپتال کی طرف لاشیں لے جاتے دیکھا ہے۔ فِی الوقت ہر شخص طوفان کی دوسری لہر کی آمد سے خوفزدہ ہے۔ اِنھی افواہوں سے آج کم از کم دو مرتبہ افراتفری پھیل چکی ہے۔


ایلن جانز، برطانیہ:

اگر کسی کو پتہ ہو تو۔۔۔
 ہم اپنی بیٹی شیرلٹ جانز کی طرف سے سلامتی کی خبر سُننے کے مُنتظر ہیں۔ جب طوفان آیا وہ پُھکٹ کے قریب ایک جزیرے راچایائی پر تھی۔
ایلن جانز، برطانیہ

ہم اپنی بیٹی شیرلٹ جانز کی طرف سے سلامتی کی خبر سُننے کے مُنتظر ہیں۔ جب طوفان آیا وہ پُھکٹ کے قریب ایک جزیرے راچایائی پر تھی۔ اس کے عمر 24 برس، قد پانچ فٹ چھ انچ ہے۔ ایمرجینسی نمبر سے کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں مل سکیں۔ ہم کسی اچھی خبر کی امید میں زندہ ہیں۔



موت سامنے
 چند لمحوں میں ہی یہ بظاہر خاموش علاقہ کشتیوں کے شور سے گُونج اُٹھا جو ساحل سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ بہت سی مچھلیاں جو پہلے سے ہی مر چُکی تھیں نکاسی کے انتہائی گندے پانی میں بہہ رہی تھیں۔جب میں تیزی سے بہت سی کشتیوں کی جانب دھکیلا جارہا تھا تو مجھے موت صاف دکھائی دی۔
فیلیکس عریبیہ، پینانگ، ملیشیا

فیلیکس عریبیہ، پینانگ، ملیشیا:
میں طوفانی لہروں کی زد میں تو آیا لیکن خوش قسمتی سے سمندر میں گرنے سے بچ گیا۔ میں ایک ایسے علاقے میں جاگرا جہاں وہاں کے مقامی لوگ اپنی کشتیاں رکھتے ہیں۔ چند لمحوں میں ہی یہ بظاہر خاموش علاقہ کشتیوں کے شور سے گُونج اُٹھا جو ساحل سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ بہت سی مچھلیاں جو پہلے سے ہی مر چُکی تھیں نکاسی کے انتہائی گندے پانی میں بہہ رہی تھیں۔جب میں تیزی سے بہت سی کشتیوں کی جانب دھکیلا جارہا تھا تو مجھے موت صاف دکھائی دی۔ آخر میں نے ایک مضبوط لکڑی کے ٹُکڑے کو تھام لیا جو ایک ایسی کشتی سے باہر لٹک رہا تھا جو ابھی تک سمندر میں نہیں بہی تھی۔ میں مدد کے لیے چلایا اور ایک چینی باشندے نے میری مدد کی۔ میں ابھی تک خوفزدہ تھا اور بڑی مشکل سے شکریہ کے الفاظ کہہ پایا۔


ایلین ڈیانڈٹ، پُھکٹ، تھائی لینڈ:
میں پُھکٹ ائرپورٹ کے مشرق میں واقع نیشنل پارک کے ساحل پر ایک خیمے میں سو رہا تھا کہ صبح دس بجے کے لگ بھگ سمندری طوفان نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ جیسے ہی طوفان نے خیمے کو بہانہ شروع کیا میری آنکھ کُھل گئی۔ مجھے خیمے کی ِزپ نہیں مل رہی تھی اس لیے خیمے کی سطح کو چیر کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ میں نے خیمے اور اس کے اندر موجود اشیاء کو بچانے کی کوشش کی لیکن بالآخر اپنی جان بچانے کے لیے سب کچھ وہاں ہی چھوڑنا پڑا۔

سب اتنے خوش قسمت نہ تھے۔۔۔
کچھ دیر بعد جب توانائی بحال ہوئی تو میں نے ایک گرے ہوئے درخت کی شاخوں میں پھنسے ہوئے ایک بچے کی مدد کی جو اپنے والدین سے جدا ہو چکا تھا۔
ایلین ڈیانڈٹ، پُھکٹ

ایک تو پانی مٹی سے مل کر کیچڑ بن چکا تھا ، طوفانی لہریں اور اوپر سے جنگل یہ تمام باتیں فرار کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ آخر کار لہروں اور ان کے نتیجے میں بہنے والی اشیاء سے بچاؤ کے لیے میں ایک درخت پر چڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد جب توانائی بحال ہوئی تو میں نے ایک گرے ہوئے درخت کی شاخوں میں پھنسے ہوئے ایک بچے کی مدد کی جو اپنے والدین سے جدا ہو چکا تھا۔ بعدازاں ایک مقامی ڈسپنسری میں اپنے بچے کو زندہ دیکھ کر اس کے والدین کو سکون حاصل ہوا۔ ان کا ایک دوست ان کی طرح خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔ وہ بدقسمتی سے اپنے دو بچوں کو کھو چُکا تھا۔



کچھ نہ بچا
 انھیں اپنے بچوں کو سمندری طوفان سے بچانے کے لیے درختوں کے ساتھ باندھنا پڑا۔ ہوٹل تباہ ہو گیا اور وہ ابھی تک اس سوئمنگ کاسٹیوم میں ہی ہیں جو اس وقت انھوں نے پہنا ہوا تھا۔
گراہم، سکاٹ لینڈ

گراہم، سکاٹ لینڈ:
میری کزن، اس کے شوہر اور دو بچے کرسمس اور نیا سال منانے کے لیے مالدیپ میں تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی پتہ لگا کے وہ لوگ خیریت سے ہیں۔ جب طوفان آیا وہ ساحل پر ہی تھے۔ انھیں اپنے بچوں کو سمندری طوفان سے بچانے کے لیے درختوں کے ساتھ باندھنا پڑا۔ ہوٹل تباہ ہو گیا اور وہ ابھی تک اس سوئمنگ کاسٹیوم میں ہی ہیں جو اس وقت انھوں نے پہنا ہوا تھا۔ باقی سب کچھ طوفان کی نظر ہو گیا۔وہاں موجود برطانیہ کے قونصل خانے نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ممکن ہوسکا تو وہ کل تک انھیں گیٹوِک آنے والی کسی فلائیٹ کے ذریعہ واپس بھجوا دیں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ لوگ کم ازکم زندہ تو ہیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد