’کس کس کو روئیں‘: زلزلے کی آپ بیتیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کی صبح بحر ہند میں آنے والے زلزلوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی طوفانی لہروں سےانڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے لیکر بھارت، مالدیپ اور سری لنکا سے اب تک بیس ہمار سے زائد انسانی ہلاکتوں کی خبر آچکی ہے اور اندیشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ بی بی سی ڈاٹ کام کے کچھ قارئین نے ہمیں اس تباہی کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجا ہے جو درج ذیل ہے۔ اگر آپ یا آپ کے کوئی جاننے والے ان حالات کا شکار ہوئے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ جو ہم پر بیتی
گرائم پیٹرز، کولمبو: ابھی ابھی میری ایک دوست سے بات ہوئی جو اپنے اندر یہ ہمت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ فون کر کے طوفان کا شکار ہوئے لوگوں کا احوال معلوم کر سکے۔ ایک ایسی فون کال کرنا مشکل ہے جس سے بری خبر موصول ہونے کا اندیشہ ہو۔ سڑکیں سنسان ہیں اور لوگ معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے کوشش کر رہے ہیں جو بظاہر بہت مشکل ہے۔ ایک ایسی بری خبر کے خوف سے ہی جو ابھی ہم نے سُنی بھی نہیں ہے، پریشانی ہوتی ہے اور کام پر توجہ دینا مشکل ہو گیا ہے۔ میرے لیے اپنی دو سالہ بیٹی کو لوگوں کے رونے کی وجہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے ۔
ہماری ایک ہوٹل میں آج کی بُکنگ تھی جو طوفان میں تباہ ہوگیا ہے۔ ممکن تھا کے ہم بھی بحر ہند میں ڈوب جاتے۔ ایک آدمی جو ایک بچے کو بچانے کے لیے اس کے طرف دوڑ رہا تھا دل کا دورہ پڑ نے سے مر گیا اور بچہ ڈوب گیا۔ یہاں کولمبو میں جہاں کوئی بھی براہ راست طوفان کا شکار نہیں ہوا لیکن ہر شخص کسی ایسے دوسرے شخص کو ضرور جانتا ہے جو اس طوفان کی زد میں آیا ہے اور اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو کھو چُکا ہے۔ نورالاسلام شیخ، کوالا لمپور، ملیشیا:
میں اپنے پورے ہوش وحواس میں تھا اور میں نے محسوس کیا کہ ہماری عمارت بری طرح جھوم رہی ہے۔ میں بری طرح خوف زدہ ہوگیا اور میں نے بھی نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔ نیچے لوگوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ زلزلے تو میں نے پہلے بھی دیکھے ہیں لیکن اس طرح کا شدید زلزلہ پہلی بار دیکھا ہے۔ اللہ ہمیں اس طرح کی آفات سے محفوظ رکھِے میلکم اور جیمز سپونر، تھائی لینڈ:
ہم گزشتہ شب گھر نہیں آسکے تھے اور ہمیں ایمرجنسی کیمپ میں رُکنا پڑا جہاں بہت سے لوگوں جو اپنے عزیز و اقارب کھو چکے تھے۔ ان لوگوں کی دردناک داستانیں سننے کو ملیں۔ ان میں ایسے لوگوں کی کہانیاں تھیں جنہوں نے اُڑتے ہوئے شیشوں کے باعث اپنے جسم کا کوئی حصہ کھو دیا اور جو ڈوبنے سے بال بال بچے تھے۔ تھائی لینڈ کے لوگ بہت مدد گار ثابت ہوئے جنھوں نے ہمارے لیے فوری طور پر مفت خوراک ، پانی اور رہنے کے لیے جگہ فراہم کی۔ آج پتنگ کا علاقہ تباہی کا مرکز بن چُکا ہے۔ سمندر سے پانچ میٹر تک کے علاقے میں تمام کاروبار اور گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ گیا ہے اور آنے والے کچھ عرصہ تک لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی کام نہ ہوگا۔ لاشوں کی تلاش ابھی تک جاری ہے۔ ہم نے گاڑیوں کو ہسپتال کی طرف لاشیں لے جاتے دیکھا ہے۔ فِی الوقت ہر شخص طوفان کی دوسری لہر کی آمد سے خوفزدہ ہے۔ اِنھی افواہوں سے آج کم از کم دو مرتبہ افراتفری پھیل چکی ہے۔ ایلن جانز، برطانیہ:
ہم اپنی بیٹی شیرلٹ جانز کی طرف سے سلامتی کی خبر سُننے کے مُنتظر ہیں۔ جب طوفان آیا وہ پُھکٹ کے قریب ایک جزیرے راچایائی پر تھی۔ اس کے عمر 24 برس، قد پانچ فٹ چھ انچ ہے۔ ایمرجینسی نمبر سے کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں مل سکیں۔ ہم کسی اچھی خبر کی امید میں زندہ ہیں۔
فیلیکس عریبیہ، پینانگ، ملیشیا: میں طوفانی لہروں کی زد میں تو آیا لیکن خوش قسمتی سے سمندر میں گرنے سے بچ گیا۔ میں ایک ایسے علاقے میں جاگرا جہاں وہاں کے مقامی لوگ اپنی کشتیاں رکھتے ہیں۔ چند لمحوں میں ہی یہ بظاہر خاموش علاقہ کشتیوں کے شور سے گُونج اُٹھا جو ساحل سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ بہت سی مچھلیاں جو پہلے سے ہی مر چُکی تھیں نکاسی کے انتہائی گندے پانی میں بہہ رہی تھیں۔جب میں تیزی سے بہت سی کشتیوں کی جانب دھکیلا جارہا تھا تو مجھے موت صاف دکھائی دی۔ آخر میں نے ایک مضبوط لکڑی کے ٹُکڑے کو تھام لیا جو ایک ایسی کشتی سے باہر لٹک رہا تھا جو ابھی تک سمندر میں نہیں بہی تھی۔ میں مدد کے لیے چلایا اور ایک چینی باشندے نے میری مدد کی۔ میں ابھی تک خوفزدہ تھا اور بڑی مشکل سے شکریہ کے الفاظ کہہ پایا۔ ایلین ڈیانڈٹ، پُھکٹ، تھائی لینڈ:
ایک تو پانی مٹی سے مل کر کیچڑ بن چکا تھا ، طوفانی لہریں اور اوپر سے جنگل یہ تمام باتیں فرار کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ آخر کار لہروں اور ان کے نتیجے میں بہنے والی اشیاء سے بچاؤ کے لیے میں ایک درخت پر چڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد جب توانائی بحال ہوئی تو میں نے ایک گرے ہوئے درخت کی شاخوں میں پھنسے ہوئے ایک بچے کی مدد کی جو اپنے والدین سے جدا ہو چکا تھا۔ بعدازاں ایک مقامی ڈسپنسری میں اپنے بچے کو زندہ دیکھ کر اس کے والدین کو سکون حاصل ہوا۔ ان کا ایک دوست ان کی طرح خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔ وہ بدقسمتی سے اپنے دو بچوں کو کھو چُکا تھا۔
گراہم، سکاٹ لینڈ: میری کزن، اس کے شوہر اور دو بچے کرسمس اور نیا سال منانے کے لیے مالدیپ میں تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی پتہ لگا کے وہ لوگ خیریت سے ہیں۔ جب طوفان آیا وہ ساحل پر ہی تھے۔ انھیں اپنے بچوں کو سمندری طوفان سے بچانے کے لیے درختوں کے ساتھ باندھنا پڑا۔ ہوٹل تباہ ہو گیا اور وہ ابھی تک اس سوئمنگ کاسٹیوم میں ہی ہیں جو اس وقت انھوں نے پہنا ہوا تھا۔ باقی سب کچھ طوفان کی نظر ہو گیا۔وہاں موجود برطانیہ کے قونصل خانے نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ممکن ہوسکا تو وہ کل تک انھیں گیٹوِک آنے والی کسی فلائیٹ کے ذریعہ واپس بھجوا دیں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ لوگ کم ازکم زندہ تو ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||