فلوجہ میں مارے جانے والے کا آخری خط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری پیاری بیوی ام فاطمہ، مجھے معلوم نہیں کیوں میرا یہ خط لکھنے کو شدید دل کر رہا ہے۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔ میں اب بزارہ کے علاقے میں ہوں اور اس لادین فوج نے ہمیں زمین اور آسمان، دونوں اطراف سے پوری طرح گھیر لیا ہے اور وہ ہر سمت سے گولے ہم پر داغ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دوست احمد سے درخواست کی ہے کہ میری موت کی صورت میں وہ یہ خط تم تک پہنچا دے اور یہی میری وصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اگر میں زندہ لوٹ آیا تو ہم دونوں مل کر اسے پڑھیں گے یا تم اکیلی بیٹھ کر اسے پڑھو گی اور تمہاری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں گے جیسا کہ تم ماضی میں ہمیشہ میرے لیے بہاتی رہی ہو۔ ام فاطمہ، میری تم سے التجا ہے کہ تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔ ان کی دیکھ بھال کرنا اور انہیں کسی چیز سے محروم نہ ہونے دینا۔ دکان کا فیصلہ تم خود کرلینا کہ تم اسے رکھنا چاہتی ہو اور کسی کو ملازم رکھ کر چلانا چاہتی ہو یا بیچ دینا چاہتی ہو۔ تمہارا جو بھی فیصلہ ہو، یہ تمہاری آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ میری اماں سے اپنے تعلقات اچھے رکھنا خواہ وہ تم سے برا سلوک بھی کرے تو۔ خواہ یہ صرف میرے لیے ہی کرنا پڑے۔ تمہیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے۔ میں تم سے خفا نہیں ہوں گا اگر تمہیں دوبارہ ۔۔۔۔مجھے معاف کردینا مگر مجھ میں یہ لفظ (شادی کرنی پڑے۔) منہ سے نکالنے کی ہمت نہیں ہے۔ تمہیں آزادی ہے کہ تم وہ کرو جو تمہیں درست لگے۔ بس یاد رکھنا کہ ہماری بیٹیاں ہی تمہارا مستقبل ہیں۔ ان کی نگرانی کرنا اور انہیں کبھی سکول اور تعلیم نہ چھوڑنے دینا کہ مستبل میں وہی تمہاری معاون ہوں گی۔ میں نے اپنے تمام دوستوں سے درخواست کی ہے کہ وہ تمہارا خیال رکھیں اور امید ہے کہ تمہیں کبھی مایوسی نہ ہوگی۔ زندہ لاش، ابو فاطمہ (دستخط) نوٹ: یہ خط فلوجہ کے ایک دوکاندار ابو فاطمہ کا اپنی بیوی ام فاطمہ کے نام آخری خط ہے۔ ابو فاطمہ کی چار بیٹیاں ہیں۔ بائیس سالہ فاطمہ، اٹھارہ سالہ ہالا، پندرہ سالہ سارہ اور تیرہ سالہ ہاجر۔ ہم اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ کے شکر گزار ہیں جس کے اکیس نومبر کے ایڈیشن میں یہ خط شائع ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||