سونامی: متاثرہ علاقوں کا سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار سنیل رمن نے، جو سونامی سے تباہ ہونے والے جنوبی بھارت کے ساحلی علاقوں کا سفر کررہے ہیں، حسب ذیل رپورٹ بھیجی ہے۔ ’تامل ناڈو کے ساحلی علاقوں کے سونامی کی زد میں آنے کے اڑتالیس گھنٹے بعد بھی ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہورہی ہے۔ ضلع نگاپٹینم میں تھارانگاپڈی کے لوگ ابھی بھی اپنے مرنے والوں کی لاشیں تلاش کررہے ہیں، کچھ لاشیں تالابوں سے مل رہی ہیں، کچھ درختوں سے لٹکی ہوئی اور کچھ تباہ شدہ جھونپڑیوں کے ملبے سے۔ یہ ضلع سونامی سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں جھونپڑیاں سمندر میں بہہ گئیں۔ ماہی گیر دنیش نے بتایا: ’مجھے نہیں معلوم کہ میری کشتی کہاں ہے، میرے پاس صرف میرے جسم پر میرے کپڑے ہی بچے ہیں۔‘ لگ بھگ چوبیس گھنٹوں تک یہاں کے گاؤں کے لوگوں کو کوئی مدد نہیں ملی۔ کچھ مقامی امدادی اداروں نے کھانے کی اشیاء فراہم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی طبی امداد نہیں ملی۔ کئی جگہ لاشیں موجود ہیں جن سے بدبو آ رہی ہے اور گِدھ آسمان میں منڈلا رہے ہیں۔ سوُر اور بکریوں کی لاشوں اور ہڈیوں سے کئی گاؤوں تک بدبو پھیل رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ناگاپٹینم ریاست میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر ہے۔ پیر کو لگ بھگ تین سو لاشیں دفن کی گئیں۔ مقامی لوگ امید کررہے ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں مزید لاشیں سمندر سے بہہ کر ساحل پر آئیں گیں۔ ایک مقامی ہسپتال کے ڈاکٹر کے وجےرانی نے بتایا: ’مرنے والوں کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ گاؤں والوں کی مدد سے ہم پتہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس علاقے میں بیماری پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔‘ ایک عورت اور ایک بچے کی لاش راستے میں پڑی تھی۔ کوئی ان کی شناخت کرنے والا نہیں ہے۔ قریب کے ایک دوسرے گاؤں میں راجندرن نے بتایا کہ لاشیں جمع ہیں لیکن ان کی آخری رسوم کی ادائیگی ممکن نہیں ہورہی ہے کیونکہ انہیں دوسرے مقام تک لے جانے کے لیے گاڑی نہیں ہے۔‘ سِدامانی ایک ماہی گیر ہے جو لاشوں کے قریب بیٹھا ہے۔ اس نے بتایا: ’مجھے میری ماں اور تین بچے نہیں مل رہے ہیں۔‘ ریاستی حکومت نے بڑے شہروں تک امداد پہنچائی ہے لیکن دور دراز گاؤں میں امداد پہنچانا مشکل ہے۔ مقامی لوگ اور حکام کوششیں کررہے ہیں۔ ‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||