ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کی تباہی سے مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس تباہی سے بچ جانے والے افراد کی مدد بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگلے چند دن میں امدادی سامان سے لدے سینکڑوں جہاز متاثرہ علاقوں میں پہنچانے پڑیں گے۔ انڈونیشیا کے نائب صدر جوسف کالا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں مرنے والوں کی تعداد پچیس ہزار ہو سکتی ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے ابھی تک مرنے والوں کی تعداد بارہ ہزار بتائی ہے۔ لیکن نئے اندازوں کے مطابق سری لنکا میں مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار ہو سکتی ہے۔ بھارت میں مرنے والوں کی تعداد سات ہزار کو پہنچ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ زلزلے اور اس سے اٹھنے والے سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے ممالک میں انڈونیشیا، سری لنکا، جنوبی بھارت، ملیشیا، مالدیپ، برما، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور افریقہ کے ممالک صومالیہ اور کینیا شامل ہیں۔ اس ناگہانی آفت میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے متاثرہ علاقوں میں ہلاک شدگان کی تدفین کے لیے اجتماعی قبریں کھودی جارہی ہیں۔ دریں اثنا اس طوفان میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا کام بھی جارہی ہے اور لا پتہ ہوجانے والے افراد کے بچ جانے کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔
سری لنکا سری لنکا کا مشرقی ساحل، شمال میں جافنا سے لے کر جنوب میں مقبول سیاحتی علاقے تک مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ ٹرنکومالی اور موتر کے اضلاع چھ میٹر اونچی لہروں میں ڈوب گئے۔ چالیس سالوں میں سب سے زیادہ شدید طوفان نے سری لنکا میں شدید ترین تباہی پھیلائی اور سرکاری ذرائع کا کہنا کہ مرنے والوں کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار سے زیادہ ہے۔ سری لنکا کی وزیر اعظم چندریکا کمارا تنگا نے کہا کہ ان کے ملک کی تاریخ میں کبھی بھی اتنی تباہی نہیں ہوئی ہے۔
سری لنکا میں فوج اور پولیس ساحلی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ذریعے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام کر رہی ہیں اور لاشوں کو پانی سے نکالنے کا کام جاری ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کولمبو کے جنوبی علاقوں کے دورے کے بعد اطلاع دی ہے کہ طوفان نے ریل کی ایک پٹری کو مکمل طور پر اکھاڑ دیا جب کہ مسافر گاڑی کا ایک ڈبہ تباہ شدہ حالت میں پٹری سے کئی سو گز کے فاصلہ پر پڑا تھا۔ بھارت بھارت میں مرنے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں نکو بار اور اینڈمان کے جزائر میں مرنے والے تین ہزار افراد شامل ہیں۔ اینڈمان میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک جزیرے پر رہنے والے لوگوں سے کوئی رابط نہیں ہو سکا۔ انڈونیشیا انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت بندہ آچہ ہی میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ البتہ حکام کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ حکام نے کہا کہ طوفان کے بعد وبائیں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دس لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے پہاڑی جنگلوں میں پناہ لے لی ہے جب کہ بہت سے اپنے لواحقین کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ آچہ کے دیگر علاقوں میں کچی جھونپڑیاں خس و خاشاک کی طرح بکھری پڑی ہیں اور گاڑیاں نالوں اور گڑہوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
مالدیپ مالدیپ کے دوسو جزائر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ تھائی لینڈ ملایشیا صومالیہ امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔ اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔ بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں متاثرین کو جلد از جلد امداد پہنچانے کی اپیل کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔ پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||