BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 December, 2004, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
سری لنکا میں تباہی
سری لنکا کے شہر گالے میں ایک خاتون اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے اور باپ کے لیے رو رہی ہے
انڈونیشیا کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں آنے والے زلزلے کی تباہی سے مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس تباہی سے بچ جانے والے افراد کی مدد بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگلے چند دن میں امدادی سامان سے لدے سینکڑوں جہاز متاثرہ علاقوں میں پہنچانے پڑیں گے۔

انڈونیشیا کے نائب صدر جوسف کالا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا میں مرنے والوں کی تعداد پچیس ہزار ہو سکتی ہے۔

سری لنکا کی حکومت نے ابھی تک مرنے والوں کی تعداد بارہ ہزار بتائی ہے۔ لیکن نئے اندازوں کے مطابق سری لنکا میں مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار ہو سکتی ہے۔

بھارت میں مرنے والوں کی تعداد سات ہزار کو پہنچ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

زلزلے اور اس سے اٹھنے والے سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے ممالک میں انڈونیشیا، سری لنکا، جنوبی بھارت، ملیشیا، مالدیپ، برما، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور افریقہ کے ممالک صومالیہ اور کینیا شامل ہیں۔

اس ناگہانی آفت میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے متاثرہ علاقوں میں ہلاک شدگان کی تدفین کے لیے اجتماعی قبریں کھودی جارہی ہیں۔ دریں اثنا اس طوفان میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا کام بھی جارہی ہے اور لا پتہ ہوجانے والے افراد کے بچ جانے کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔

سری لنکا
سری لنکا میں دس لاکھ کے قریب افراد بے گھر

سری لنکا
سری لنکا کا مشرقی ساحل، شمال میں جافنا سے لے کر جنوب میں مقبول سیاحتی علاقے تک مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

ٹرنکومالی اور موتر کے اضلاع چھ میٹر اونچی لہروں میں ڈوب گئے۔

چالیس سالوں میں سب سے زیادہ شدید طوفان نے سری لنکا میں شدید ترین تباہی پھیلائی اور سرکاری ذرائع کا کہنا کہ مرنے والوں کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار سے زیادہ ہے۔

سری لنکا کی وزیر اعظم چندریکا کمارا تنگا نے کہا کہ ان کے ملک کی تاریخ میں کبھی بھی اتنی تباہی نہیں ہوئی ہے۔

زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں
سری لنکا۔۔۔ 11,500
انڈونیشیا۔۔۔ 4500
بھارت۔۔۔ 6000
تھائی لینڈ۔۔۔ 839
ملیشیا۔۔۔44
مالدیپ۔۔۔ 32
برما ۔۔۔ 30
بنگلہ دیش۔۔۔ 2

سری لنکا میں فوج اور پولیس ساحلی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں، ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے ذریعے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام کر رہی ہیں اور لاشوں کو پانی سے نکالنے کا کام جاری ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر کولمبو کے جنوبی علاقوں کے دورے کے بعد اطلاع دی ہے کہ طوفان نے ریل کی ایک پٹری کو مکمل طور پر اکھاڑ دیا جب کہ مسافر گاڑی کا ایک ڈبہ تباہ شدہ حالت میں پٹری سے کئی سو گز کے فاصلہ پر پڑا تھا۔

بھارت
بھارت کے دو ہزار کلو میٹر طویل جنوب مشرقی ساحلی علاقہ طوفانی لہروں کی زد میں آیا جن میں تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ اور پانڈیچیری کا قبائلی علاقہ شامل ہے۔ تامل ناڈو کا دارالحکومت چنئی سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں ڈھائی ہزار سے زائد ماہی گیروں کی جھونپڑیاں تباہی کی نذر ہوگئیں اور صرف چنئی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارت میں مرنے والوں کی تعداد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں نکو بار اور اینڈمان کے جزائر میں مرنے والے تین ہزار افراد شامل ہیں۔

اینڈمان میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ بہت سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک جزیرے پر رہنے والے لوگوں سے کوئی رابط نہیں ہو سکا۔

انڈونیشیا
انڈونیشیا میں سمندری زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار کے قریب بتائی گئی ہے۔ اس شدید زلزلے کا مرکز انڈونیشیا کے قریبی جزیرہ سوماٹرا کو بتایا جا رہا ہے۔ تاہم سوماٹرا سے کسی قسم کی تفصیل موصول نہیں ہو پائی ہے کیونکہ بظاہر وہاں مواصلات اور آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت بندہ آچہ ہی میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ البتہ حکام کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔

حکام نے کہا کہ طوفان کے بعد وبائیں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دس لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے پہاڑی جنگلوں میں پناہ لے لی ہے جب کہ بہت سے اپنے لواحقین کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

آچہ کے دیگر علاقوں میں کچی جھونپڑیاں خس و خاشاک کی طرح بکھری پڑی ہیں اور گاڑیاں نالوں اور گڑہوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

News image
طوفانی لہروں سے ساحل پر واقع عمارتوں کو مسمار کر دیا

مالدیپ
مالدیپ کے کئی جزیرے جو سطح سمندر سے چند فٹ کی بلندی پر تھے، اس سمندری طغیانی سے تباہ ہو گئے ہیں۔

مالدیپ کے دوسو جزائر سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

تھائی لینڈ
جنوبی تھائی لینڈ کے مغربی ساحلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جن میں پوکھٹ اور فیفی جزیرے اور کرابی اور فانگ نگا کے تفریحی مقامات تباہ ہو گئے ہیں۔

ملایشیا
ملائیشیا کے ساحل پیناگ پر کئی لوگ طوفانی لہروں میں بہہ گئے۔

صومالیہ
اس طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بر اعظم افریقہ کے مشرقی ساحل پر واقع ملک صومالیہ کا شمالی حصہ بھی اس سے متاثر ہوا جو کہ زلزلے کے مرکز سے چھ ہزار کلو میٹر دور واقع ہے۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں ماہی گیروں کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے۔

امریکی جیولاجیکل سروے نے جس نے پہلے ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.9بتائی تھی، اس میں تبدیلی کی ہے اور کہا کہ زلزلے کی شدت 9 تھی جو گزشتہ چالیس برس کے دوران دنیا بھر میں کہیں بھی آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

اس سمندری زلزلے کے اثرات براعظم افریقہ میں محسوس کیے گئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق صومالیہ میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

پاکستان کے ساحلی علاقے بحرہند کے کنارے پر ہونے کے باوجود اس کی تباہی سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں بھرپور مدد کرے گا۔

بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں متاثرین کو جلد از جلد امداد پہنچانے کی اپیل کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں یورپی یونین نے متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کی بھرمار شروع ہو گئی ہے۔

پوپ جان پال دوئم نے کہا ہے کہ وہ اس شدید سانحہ کی زد میں آنے والے افراد کے لیے دعا گو ہیں۔

News image
متاثرہ علاقے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد