سونامی: قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
26 دسمبر کی صبح ہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً 6:28 پر انڈونیشیا میں سوماترا کے نزدیک گہرے سمندر میں زلزلہ آیا اور نتیجتاً سونامی لہریں اٹھیں اور ہر طرف بربادی پھیل گئی۔ اسی روز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے چنّئی کے مرینا بیچ پر چہل قدمی کرتے لوگ اس تباہی کی زد میں آ گئے۔ یہ طوفان تقریباً دو گھنٹے بعد چنّئی پہنچا تھا۔ ان دو گھنٹوں میں ہندوستان کا خلائی نظام، محکمہ موسمیات اور سمندر کے متعلق ماہرین اور سانئسداں بالکل بےخبر رہے۔ isro ہندوستان میں محکمۂ سیٹالا ئٹ سے ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کے جواب میں اسرو کے عوامی رابطے کے افسر کرشنا مورتی نے کہا کہ ’ہماری سیٹلائٹ میں سمندری طوفان اور موسم کے امور کی خبر دینے کے لیے تو سسٹم ہے لیکن سونامی لہروں کے خطرہ سے خبردار کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی سہولیات نہیں ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ جب بحرالکاہل سے متصل علاقوں میں سونامی کی خبر پہلےمل جانا ممکن ہے تو ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں؟ اس کے متعلق احمدآباد میں محکمہ موسمیات اور سمندری امور کے متعلق ادارے میں ڈاکٹرایس ایم نارائن نے کہا ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں سونامی لہریں عام طور پر کم آتی ہیں اس لئے لوگوں نے اس کے بارے میں سوچا نہیں۔ ہماری کمیونیکیشن ٹیکنالوجی بہت معیاری ہے۔ طوفان آنے سے پہلے عام طور پر لوگوں کو خبردار کر دیا جاتا ہے لیکن اس بار جب انڈونیشیا میں ایسا ہوا تو ہم خبردار نہیں کر سکے اس کی وجہ یہی تھی کہ سونامی بہت عام نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ ہندوستان میں سونامی عام نہیں ہے، لیکن جب طوفانی لہریں اٹھیں اور ہندوستان کی طرف بڑھیں تو اس وقت خبردار کیوں نہیں کیا گیا۔ اسرو کے ترجمان کرشنامورتی کہتے ہیں کہ بحرِ ہند میں پہلے کبھی سونامی کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے کوئی تیاری نہیں تھی۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم خبردار کرنے میں مدد کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر نارائن نے بھی تسلیم کیا کہ سنامی کے متعلق ہندوستان کو خبردار کیا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کو پتا چلے کہ انڈونیشا میں کچھ ہوا ہے تو ہندوستان کے ساحلی علاقوں کو سنامی کے آنے کی خبر دی جا سکتی تھی لیکن ابھی تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا اس لیے ہمیں شاید اس کا اندیشہ نہیں تھا۔ بہرحال سونامی سے بچنے کا کیا طریقہ کار اور اس کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ اس کے بارے میں ڈاکٹر ایم ایس نارائن کی رائے ہے کہ اس ضمن میں محض سیٹلائٹ سے ہی سب کام نہیں لیا جا سکتا۔ زمینی اور فضائی دونوں طرح کی ٹیکنالوجی کی مدد سے اس پر نگرانی رکھنی ہوگی اور تبھی لوگوں مطلع کرنا ممکن ہوگا۔ آلٹی میٹر کے استعمال سے سنامی کے بارے میں نہ تو پیشگوئی کرنا ممکن ہے اور نہ ہی خبردار کرنا۔ لیکن ایک اور آلہ ’سی فلور پریشر ریکارڈنگ سسٹم‘ جو سمندر کے اندر دباؤ ماپنے کے کام آتا ہے، کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی حکومت اب بحرِ ہند میں اس آلے کو نصب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ جب سمندر کےاندر ہلچل ہوتی ہے اور دباؤ میں تبدیلی آتی ہے تو اس مخصوص آلے کے ذریعے یہ خبر سیٹلائٹ تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے وقت پر خبردار کیا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||