دیہات میں امداد نہیں پہنچی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان میں سمندری طوفان سے آئی تباہی سےشہر اورگاؤں دونوں بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن اب تک امدادی ایجنسیوں کا کام زیادہ تر شہروں اور قصبوں تک محدود رہا ہےاور متاثرہ دیہات میں بہت کم امداد پہنچی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر وہاں فوری طور پر طبی اور غذائی امداد نہ پہنچائی گئی تو بڑے پیمانے پر وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ کئی سیاسی رہنما تامل ناڈو کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں اور جہاں جہاں لیڈر پہنچتے ہیں وہیں امدادی کام بھی تیزی سے جاری ہیں جبکہ کسی بھی سیاسی رہنما نے دوردراز کے دیہی علاقوں کا دورہ نہیں کیا ہے ۔ شہروں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ وہ بغیر مدد کے ملبے سے لاشیں کیسے نکال سکتے ہیں ۔ بی بی سی کے نامہ نگار سنیل رمن کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں بدھ سے امدادی کاموں میں تیزی آئی ہے۔ کچھ امدادی ایجنسیاں دوائیں اور خوراک لیکر گاؤں پہنچ رہی ہیں لیکن گزشتہ تین دنوں سے کوئی مدد نہ پہنچنے سے گاؤں کے باشندوں میں ناراضگی ہے اور حالات مزید خراب ہو رہے ہیں ۔ دیہاتیوں کے پاس اپنے بچاؤ کیلۓ کچھ بھی نہیں ہے لیکن وہ منہ پر کپڑا باندھ کرانسانی لاشوں کو مری ہوئی مچھلیوں کے بیچ سے نکال رہے ہیں۔ لیکن بعض جگہوں پر ملبہ اتنا زیادہ ہے کہ بلڈوزر کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ان علاقوں میں پانی کی ہر جگہ بھر مار ہے لیکن پینے کو قطرہ بھی نہیں۔لوگ ہاتھ دھونے کے لئے بھی تالاب کا وہ پانی استعمال کر رہے ہیں جس میں مرے ہوئےمویشیوں کی سڑی ہوئی لاشیں تیر رہی ہیں۔ سمندری طوفان سے بچ جانے والے گاؤں کے باشندے خوف و ہراس کے ماحول میں جگہ جگہ جمع ہیں جنہیں پانی، کھانے اور دواؤں کی فوری ضرورت ہے۔ انہيں ایسے رضا کاروں کی مدد بھی چاہیے جو انہیں انکے گاؤں تک پہنچا سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||