BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں 6000 ہلاک، 2000 لاپتہ
News image
زمینی صورتِ حال ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مخدوش ہے۔
بھارت کی یونین ٹیریٹری اینڈمان اینڈ نکوبار میں پولیس کے انسپکٹر جنرل نے کہا ہے کہ سونامی کی موجوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار ہے جبکہ دو ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

بھارت میں سمندری طوفان سے ہونے والی اس تباہی پر امریکہ نے ایک لاکھ ڈالر کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم کے نام ایک خط میں امریکی سفیر نے قدرتی آفت پر تعزیت کی اور کہا کہ امریکہ مالی امداد کے علاوہ ہر طرح سے بھارت کو مدد فراہم کرنے پر تیار ہے۔

اینڈمان اینڈ نکوبار میں پولیس کے انسپکٹر جنرل شمشیر دیول نے کہا ہے کہ تین ہزار کے قریب ہلاک ہو گئے ہیں۔ یونین ٹیریٹری کے کئی جزیروں سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی سروے سے پتہ چلا ہے کہ زمینی صورتِ حال ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مخدوش ہے۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ وہ جزیرے جہاں کی زمین اونچی نہیں تھی زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ لوگ کہیں پناہ نہیں لے سکے۔

ادھر کیرالا ریاست کے وزیرِ اعلیٰ اومین چینڈی نے بتایا ہے کہ اتوار کو ریاست میں طوفانی لہروں کے باعث ایک سو اکیس افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا بہت زیادہ امکان ہے کیونکہ ساحلی علاقوں میں بہت سے لوگ لاپتہ ہیں۔

حیدر آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق نے بتایا ہے کہ آندھرا پردیش میں مرنے والوں کی تعداد نوے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ساحلی علاقوں سے مسلسل اموات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ کوسٹ گارڈ کے جہاز اور نیوی کے ہیلی کاپٹر ان آٹھ سو افراد کی تلاش میں ہیں جو اتوار سے لاپتہ ہیں۔

سنامی کی موجوں سے آنے والی تباہی کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی آندھرا پردیش کے ساحلی علاقے یاسیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ادھر ادھر کشتیاں الٹی پڑی ہیں۔ وہ ماہی گیر جو سنامی کی موجوں سے بچ گئے، یا اپنی کشتیوں کو ڈھونڈ رہے ہیں یا ان کی مرمت میں مصروف ہیں۔

سنامی کی موجوں نے جن کی اونچائی دس میٹر تک تھی علاقے میں ایک ہزار کلو میٹر طویل ساحلی علاقے میں تباہی مچا دی ہے۔

ریاست کے لگ بھگ بیس ہزار افراد نے متاثرہ علاقوں میں رات گھروں سے باہر سکولوں، کالجوں یا حکومتی عمارتوں میں گزاری۔

وزیرِ اعلی کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو ان کے علاقوں میں واپس بھیجے جانے کا فیصلہ پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا سنامی کی موجوں کے ختم ہونے کے باوجود لوگوں کو واپس ساحلی علاقوں تک اس لیے نہیں جانے دیا گیا کہ کہیں زلزلے کے مزید جھٹکے نہ آ جائیں۔ ماہی گیروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سمندر سے دور رہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد