مراکش زلزلہ: 564 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی مراکش میں منگل کی صبح آنے والے شدید زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ سو ساٹھ ہو گئی ہےاور اندیشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ ھنگامی صورتِ حال کے پیش ِ نظر فوج کو امدادی کاموں میں مدد کے لئے طلب کر لیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق الحسیمہ کا علاقہ جہاں کثیر تعداد میں سیاح آتے ہیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس شہر میں زیادہ تر مکانات کچی اینٹوں کے بنے ہوئے تھے۔ وہاں کے ایک بچ جانے والے رہائشی نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ گلیوں اور سڑکوں پر ہر جگہ لاشیں ہی لاشیں تھیں اور زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے ہسپتالوں میں لے جایا جا رہا تھا۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ الحسیمہ کے قرب میں واقع تین دیہات شاید شدید زلزلے کے اثر کو برداشت نہ کر پائیں۔ ان دیہات میں تقریباً تیس ہزار افراد رہتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ زلزلے کی شدت تنجیئر کے ساحلی علاقے تک محسوس کی گئی۔ اس کے علاوہ زلزلے کے مقام سے ایک سو پچاس کلو میٹر دور تک جھٹکے محسوس کئے جانے کی اطلاع ہے۔ مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے چالیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مراکش کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ رائٹرز نے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمارا کے علاقے سے پندرہ لاشیں ملیں ہیں۔ یہ علاقہ زلزلے میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جس مقام پر زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے وہاں فوج اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ ہیلی کاپٹروں کو بھی روانہ کیا گیا ہے تا کہ وہ زندہ بچ جانے والوں کو فوری امداد مہیا کریں۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سیکل پر چھ اعشاریہ پانچ تھی جبکہ یورپی ادارے کہتے ہیں کہ زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ ایک سے چھ اعشاریہ تین تک تھی۔ منگل کا زلزلہ مراکش کے ہمسایہ ملک الجیریا کے خوفناک زلزلے کے نو ماہ بعد آیا ہے جہاں دو ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انیس سو ساٹھ میں مراکش میں زلزلے سے بارہ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||