پاکستان: زلزلے سے بیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شملای علاقے میں سنیچر کو آنے والے دو شدید زلزلوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان زلزلوں کے نتیجے میں تقریباً دو سو عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ وزارت داخلہ کے ’کرائسس مینجمنٹ سیل‘ (بحران سے نمٹنے کے لیے قائم کیا جانے والا ادارہ) کے سربراہ بریگیڈیئر جاوید چیمہ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے ان جھٹکوں کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اب امدادی کاموں میں بھی دشواری بیش آرہی ہے۔ ان جھٹکوں کی سب سے زیادہ شدت شمال مغربی صوبۂ سرحد میں محسوس کی گئی جو صوبائی دارالحکومت پشاور سے دو سو کلومیٹر دور ہے۔ پولیس کے غلعی سربراہ راجہ ناصر خان نے بتایا کہ بٹگرام میں پیش آنے والے ایک واقعے میں زلزلے کے نتیجے میں دس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب بٹگرام کے قریب ایک ویگن لڑھکتے ہوئے پتھر کی زد میں آکر دریا میں جاگری۔ط مانسہرہ میں ایک اور پولیس افسر حیات خان کا کہنا ہے کہ جبوری نامی گاؤں میں ایک شخص اس وقت ہلاک ہوا جب اس کے مکان کی چھت گرپڑی۔ مانسہرہ کے ضلعی ناظم سید احمد حسین کے مطابق امدادی دستے روانہ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’ہمیں اطلاع ملی ہے کہ بعض لوگ ملبے تلے بھی دبے ہوئے ہیں۔ اور بعض علاقوں میں لوگ برف باری میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔‘ خدشہ ہے کہ برف باری اور موسم بھی امدادی کاموں میں دشواری کا باعث بنیں گے۔ محکمۂ موسمیات کے افسر چوہدری قمرالزماں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے شمالی علاقوں کے کئی شہروں اور اسلام آباد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بھی بعض مقامات پر محسوس کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جھٹکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سری نگر میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر پانچ عشاریہ سات بتائی گئی ہے۔ خبر رسان ادارے اے پی کی مطابق زلزلے میں بارہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے جبکہ ڈیڑھ سو کے قریب گھر تباہ ہو گئے۔ ادارے نے زلزلے کا مرکز صوبۂ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے دو سو کلومیٹر شمال مشرق میں کوہ ہندو کش میں بتایا ہے۔ نومبر سن دو ہزار دو میں بھی زلزلے کے نتیجے میں شمالی پاکستان کے علاقے گلگت میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||