سونامی: ہزاروں ایٹم بموں کے برابر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس بحری زلزلے کا جو پہلا سائنسی تجزیہ ہوا ہے اس مطابق جو قوت خارج ہوئی تھی وہ ساڑھے نو ہزار ایٹم بموں کے برابر تھی۔ امریکی ارضیاتی سروے کا کہنا ہے کہ یہ اتنا طاقتور زلزلہ تھا کہ زمین اپنے محور پر ہل گئی ہوگی۔ ادھر اس تباہ کن قدرتی آفت کو سائنسی اور تاریخی نظر سے بھی پرکھا جا رہے ہیں۔ اس بحری زلزلے کا جو پہلا سائنسی تجزیہ ہوا ہے اس مطابق جو قوت خارج ہوئی تھی وہ ساڑھے نو ہزار ایٹم بموں کے برابر تھی۔ امریکی ارضیاتی سروے کا کہنا ہے کہ یہ اتنا طاقتور زلزلہ تھا کہ زمین اپنے محور پر ہل گئی ہوگی۔ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بحرہند میں آنے والا سونامی تاریخ کی بڑی قدرتی آفتوں میں سے ایک تھا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے صرف چھ بڑی آفتوں میں حالیہ ہلاکتوں سے زیادہ اموات واقع ہوئیں۔ ان میں سب سے تباہ کن زلزلہ سولہویں صدی میں چین میں آیا تھا جس میں اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ 1976 میں چین ہی میں آنے والی تباہی میں حکام کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد مارے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||