سونامی الرٹ نے افراتفری پھیلا دی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حکام کی طرف سے ایک اور سونامی کے خدشے کے الرٹ نے جنوبی بھارت کے ساحلی علاقوں اور انڈامان جزائر میں افراتفری پھیلا دی ہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ انڈامان اور نکوبار جزائر میں دوبارہ زلزلے کے جھٹکوں سے پیدا ہونے والی لہروں سے مزید تباہی پھیل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سمندر کی آبی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس خبر سے لوگوں میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ساحلی علاقوں سے ہزاروں لوگ بھاگ کر اندرونی علاقوں کی طرف چلے گئے۔ تامل ناڈو میں سونامی کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی کی تعداد اب 60,000 سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں وزیرِ داخلہ نے شیوراج پٹیل نے کہا ہے کہ ’ہمیں خود ہراس نہیں پیدا کرنا چاہیئے۔ خوف اور احتیاطی تدبیر میں فرق ہے۔ ہمیں احتیاطی تدابیر کرنا چاہیئں‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ اطلاع ملی ہے کہ زلزلہ دوبارہ آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زلزلہ رکٹر سکیل پر سات سے اوپر ہوا تو سنامی آ سکتا ہے۔ اس سے قبل وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے مطابق کہا گیا تھا کہ دنیا کے ماہرین نے کہا ہے کہ بحرہ ہند میں جمعرات کے روز دوپہر بعد سونامی لہریں پھر سے اٹھ سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ ابھی وہ اس کے متعلق پوری معلومات جمع کر رہے ہیں۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر اہتمام ان علاقوں کے متعلقہ افسران کو آگاہ کیا گیا ہے جہاں اسکے زیادہ خطرات ہیں۔ انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انتظامیہ بھی کو اس کے لیے تیار رکھیں۔ اسی وارننگ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف حکام نے بہت سے لوگوں کو ساحلی علاقوں سے دور پہنچانا شروع کردیا ہے۔ حکام کے مطابق احتیاط کے طور پر ساحل سمندر کے نزدیک بسے لوگوں کو دور لے جانا ضروری ہے۔ اس سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کاموں پر بھی برا اثر پڑا ہے۔ وہ لوگ جو غذا اور طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف تھے اب لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچا رہے ہیں۔ وارننگ کے بعد ریاست کی وزیر اعلیٰ جے للیتا جو متاثرہ علاقوں کے ایک دورے پر جانے والی تھیں اپنا درہ منسوخ کردیا ہے۔ سونامی لہروں کی دن میں بارہ بجے کے بعد آنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی اس لیے اس کا خطرہ اب بھی برقرار ہے ۔اس طرح کی اطلاعات کے بعد ساحل سمندر کے پاس رہنے والے باشندوں میں خوف ہراس مزید بڑھ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||