متاثرہ علاقوں میں وبا پھیلنے کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان میں اتوار کے روز سمندری لہروں سے ہونے والی زبردست تباہی کے بعد اب پورے علاقے میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگيا ہے۔ امدادی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہیں لیکن جگہ جگہ انسانی لاشوں ، مویشیوں اور مچھلیوں کے سڑنے سے فضا متعفن ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد از جلد طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو خطرناک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ سونامی لہروں سے متاثرہ ساحلی علاقوں میں ان لاشوں کے ڈھیر لگتے جا رہے ہیں جن کا کوئی وارث نہیں۔ بہت سی مسخ شدہ لاشوں کو پہچاننا بھی مشکل ہے۔ بڑی تعداد میں مچھلیوں اور مویشیوں کےسڑنے سے پانی بھی آلودہ ہوچکا ہے۔ ہر جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں جس کے نیچے بھی بہت سی لاشیں موجود ہیں۔ کئی جگہوں پر کوؤں اور چیلوں کو مچھلیوں اور لاشوں پر اڑتا دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے ماحول سے قومی پیمانے پر وبائی امراض پھیل سکتے ہیں اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو وبائی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اس تباہ کن طوفان سے ہونے والی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے اگر فوری طور پر صاف پینے کا پانی اور ضروری طبی سہولیات مہیا نہ کی گئیں تو وبائی امراض کو روکنا مشکل ہو جائےگا۔ لاشوں کو جلد از جلد دفنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ہر جگہ پانی بھرنے سے اس کام میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں لیکن بعض اطلاعات کے مطابق یہ کوششیں ناکافی ہیں۔ سرکاری بیانات کے مطابق امدادی کام جنگی پیمانے پر جاری ہے لیکن بہت سے علاقوں میں افسران کی رسائی اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ مرکزي حکومت نے اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلیے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت متاثرہ علاقوں میں بچوں کو بیماری سےبچانے کے لیےضروری ادویات مہیا کی جائیں گی۔ وزارتِ صحت کے سیکرٹری بی کے ہوٹا نے بتایا کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ بھی آج متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ خراب حالات کار نکوبار جزیرے کے ہیں جہاں ہر طرح کا مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق نکوبار میں طبی سہولیات کیلیے خصوصی کیمپ لگائے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||