’مستقل ریلیف فنڈ قائم ہونا چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ اس بات کے خواہاں ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بحر ہند میں سونامی سے ہونے والی تباہی کے متاثرین کے لیے ریلیف فنڈ تشکیل دے۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے دس ممالک میں سری لنکا اور بھارت حالیہ تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آئی سی سی نے اس خطے کے متاثرین سے دِلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ البتہ کلائیو لائیڈ کی خواہش ہے کہ آئی سی سی اس ضمن میں مزید آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ کرکٹ میں بہت پیسہ ہے اور ہمیں یہ پیسہ دوسروں پر بھی خرچ کرنا چاہیے۔‘ کلائیو لائیڈ آئی سی سی کی طرف سے ٹیسٹ میچوں کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی ریفری ہیں۔ ان کے دو قریبی دوست بھی جنوبی ایشیا میں ہونے والی تباہی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ دنیائے کرکٹ کا انتظامی ادارہ ٹی وی حقوق، سپانسر شپ اور اشتہارات سے حاصل ہونے والے خطیر منافع سے ایک مستقل امدادی فنڈ قائم کرے۔ کلائیو لائیڈ کے دوست سری لنکا کے ان ہوٹلوں میں سے ایک میں ٹھہرے ہوئے جو سونامی کی تباہ کاری میں بہہ گئے۔ سری لنکا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں آنے والے طوفان و سیلاب سے پچیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سری لنکا کا شہر گالے دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں شدید ترین تباہی برپا ہوئی ہے۔ سری لنکا میں ٹیسٹ میچوں کے انعقاد کے لیے ایک اہم ترین سٹیڈیم بھی گالے ہی میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||