بلوچستان: مسائل کی ہڈی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک قصاب کے بچے کے پاؤں میں ہڈی کا ٹکڑا چُبھ گیا۔ قصاب اسے محلے کے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ وہ اس بچے کا علاج اس شرط پر کرے گا اگر اسے فیس کے طور پر روزانہ ایک کلو گوشت ملے۔ قصاب نے یہ بات منظور کرلی۔ ڈاکٹر روزانہ بچے کے پاؤں کی پٹی بدلتا اور فیس کے طور ایک کیلو تازہ گوشت وصول کرتا۔ ایک دن ڈاکٹر کو کسی مریض کے معائنے کےلیے کلینک چھوڑ کر جانا پڑا۔ اسکی غیر موجودگی میں قصاب کا بچہ جب پٹی بدلوانے آیا تو ڈاکٹر کے اسسٹنٹ نے اسکے پیر کا معائنہ کرکے چبھی ہوئی ہڈی نکال کر پٹی باندھ دی۔ ڈاکٹر واپس آیا اور اسسٹنٹ نے اسے بتایا کہ میں نے ہڈی کا ٹکڑا نکال دیا ہے۔اب اسکا زخم بھر جائے گا اور شائد اس بچے کو دوبارہ آنے کی بھی ضرورت نہ پڑے۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹر نے سر تھام لیا۔ ’بھائی یہ تم نے کیا کیا۔ اس چبھی ہوئی ہڈی کے بدلے ہی تو روزانہ کیلو بھر تازہ گوشت مل رہا تھا‘۔ بلوچستان کے پاؤں میں بھی پسماندگی کی جو ہڈی چبھی ہوئی ہے اگر اس پر پٹی باندھنے کے بجائے اسے اب تک نکال پھینکا جاتا تو پھر وہاں کے وسائل وہاں کے لوگوں کی مرضی کے بغیر کیسے استعمال ہوتے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اکبر بگٹی کیا کہتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کیا موقف ہے۔ بلوچ قوم پرست غدار ہیں یا محبِ وطن۔ گوادر کی بندرگاہ سے نقصان کس کا ہے یا فائدہ کس کا۔صوبے کو مزید فوجی چھاؤنیوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی مسئلہ حل ہی نہیں کرنا چاہتا۔ کوئی ڈیڑھ سو برس پہلے انگریز نے اس علاقے میں سنڈیمن سسٹم کے نام سے جو نظامِ حکمرانی اپنایا تھا اسکے تحت انگریز سارا معاملہ بالا بالا سرداروں سے طے کرتے تھے اور عام بلوچ کی حیثیت بھیڑ بکری سے زیادہ نہیں تھی۔ آج دوہزار پانچ میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ بلوچستان میں وہی سنڈیمن سسٹم جاری ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ جس علاقے کو سب سے پہلے قائد اعظم محمدعلی جناح نے انیس سو ستائیس میں ہی صوبائی درجہ دینے کا مطالبہ کردیا تھا اس علاقے کو پاکستان بننے کے تئیس برس بعد تک صوبائی درجہ نہ مل سکا۔ ایسا کیوں ہے کہ پچھلے اٹھاون برس کے دوران بلوچستان میں چار بغاوتیں ہو چکی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ جو صوبہ پاکستان کی گیس کی ستر فیصد ضروریات اور کوئلے کی ساٹھ فیصد ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ نوے فیصد اونیکس پتھر کی پیداوار دیتا ہے۔ جہاں لاکھوں ٹن تانبا زمین میں دبا ہوا ہے۔جو سب سے طویل ساحلی صوبہ ہے وہاں کی ستر لاکھ کی مختصر سی آبادی کا ستر فیصد زمین سے ذرا سا اوپر مگرخطہ غربت سے نیچے رہ رہا ہے۔ اسکا الزام حکومت سرداروں پر رکھے یا سردار حکومت پر۔کیا فرق پڑتا ہے۔ بلوچستان وسیع و عریض جائیداد کا مالک وہ یتیم سا بچہ لگتا ہے جسکے غم خوار تو بہت ہیں لیکن سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||