بگلہ پکڑ تحریک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم میں سے اکثر لوگ بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ بگلہ دو طریقے سے پکڑا جاتا ہے۔یا تو آپ دبے پاؤں اسکے پیچھے جا کر گردن دبوچ لیں یا پھر بگلے کے سر پر موم رکھ کے انتظار کریں کہ کب سورج کی روشنی سے یہ موم پگھل کر بگلے کی آنکھوں میں جائے اور جب وہ نابینا ہو جائے تو آرام سے پکڑ لیا جائے۔ پاکستان اور ہندوستان نے کشمیر کا بگلہ پکڑنے کے لئے ہمیشہ دوسرا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن کبھی سورج نہیں نکلتا تو کبھی موم پگھلنے سے پہلے بگلے کے سر سے گر پڑتا ہے تو کبھی خود بگلہ پھدک کر ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی اچھے بھلے اب سے پانچ برس پہلے لاہور پہنچے تو پیچھے سے کارگل ہوگیا۔اسکے بعد صدر مشرف آگرہ گئے تو سربراہ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ کومے، فل سٹاپ ، لفظیات کے چناؤ اور پیراگرافنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔پھر اٹل بہاری واجپئی نے سری نگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک بار پھر پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔تو صدر مشرف نے کشمیر کے حل کے لئے ٹائم فریم کا مطالبہ کردیا۔ پھر جب گزشتہ برس پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر یکطرفہ جنگ بندی اور فوجیں پیچھے ہٹانے کا اعلان کیا تو ہندوستان نے سال بھر پاکستان کا قول و فعل آزمانے میں ہی گزار دیا۔
ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کی جانب سے کشمیر میں فوجوں کی تعداد میں علامتی کمی کے علاوہ یہ اشارے ملنے لگے کہ لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد بنانے پر غور ہوسکتا ہے تو صدر مشرف سے منسوب یہ بیان سامنے آ گیا کہ کشمیر کے بارے میں ہندوستان کا رویہ پہلے کے مقابلے میں کم مثبت نظر آتا ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کو یہ بھی جتاتی رہتی ہے کہ حساس معاملات پر کھلے عام رائے زنی اور تجاویز پیش کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک غیر ذمےدارانہ اور غیر سفارتی عمل ہے۔ اسکے کچھ عرصے بعد تک دونوں ملک سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر ایک دوسرے سے ذمہ دارانہ رویہ برتنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔لیکن جیسے ہی بگلے کی گردن پر ان میں سے کسی کا ہاتھ پورا پڑنے لگتا ہے تو دوسرا فریق کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے کہ بگلہ پھر سے بدک جاتا ہے۔اور موم ہے کہ مسلسل ضائع ہوئے چلا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||