BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 October, 2004, 21:04 GMT 02:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا ریپبلیکن کیا ڈیموکریٹ؟

بش ، کیری
بش اور ان کے حعیف کی انتخابی مہم اب آخری مراحلے میں ہے
جب تک امریکہ اپنے حال میں مست تھا اور اسے سمندر پار معاملات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تو بیرونی دنیا کو بھی اس بات سے دلچسپی نہیں تھی کہ امریکہ میں ڈیموکریٹس برسراقتدار ہیں یا ریپبلیکنز۔لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد بالخصوص امریکہ کو جب عالمی فوجی، سیاسی اور اقتصادی قائد بننے کی ضرورت محسوس ہوئی تو باقی دنیا کے لئے بھی یہ بات اہم ہوتی چلی گئی کہ امریکہ میں کونسی جماعت برسراقتدار ہے اور اسکی پالیسی اگر دوسری جماعت سے مختلف ہے تو کتنی مختلف ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے آخری دنوں میں ڈیمو کریٹ صدر روز ویلٹ کی اچانک
وفات کے بعد جب انکے نائب ہیری ٹرومین صدر بنے اور بعد میں انتخاب بھی جیت گئے تو انہوں نے امریکی شہریوں کے لئے اکیس نکاتی روزگار اور سوشل سیکیورٹی کے پروگرام پر عمل کیا لیکن امریکہ سے باہر وہ اس لئے یاد رہیں گے کہ انہوں نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے تھے۔

ڈیموکریٹ ٹرومین کے بعد ری پبلیکن آئزن ہاور صدر بنے تو انکے دور میں امریکی اسکولوں میں رنگ و نسل کی بنیاد پر داخلوں کی پالیسی کالعدم قرار دے دی گئی۔لیکن بیرونِ امریکہ آئزن ہاور نے ایٹم برائے امن کے نام پر اپنے اتحادیوں کو جوہری ٹیکنولوجی سے روشناس کرایا ۔ان میں سے کئی ممالک آنے والے وقت میں خود امریکہ کے لئے سر درد بن گئے۔اسکے علاوہ ھائڈروجن بم کا تجربہ ہوا اور سووئیت یونین کے ساتھ اسلحے کی دوڑ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
ریپبلیکن آئزن ہاور کے بعد جان ایف کینیڈی ڈیموکریٹ صدر بنے۔انہوں نے امریکی سیاہ فام آبادی کے سماجی مرتبے کو بلند کرنے کے لئے شہری حقوق سے متعلق قوانین کے نفاز کی پرزور وکالت کی۔لیکن اسی انقلابی طبع کینیڈی نے کیوبا کی خود مختاری پر ضرب لگانے کے لئے نہ صرف سی آئی اے کی جانب سے فیدل کاسترو کو قتل کرنے کی کوششوں سے چشم پوشی کی بلکہ سی آئی اے کے اس منصوبے کی بھی منظوری دی جسکے تحت کرائے کے فوجیوں سے کیوبا پر حملہ کروایا گیا۔
کینیڈی کے قتل کے بعد انکے نائب ڈیموکریٹ لنڈن بی جانسن صدر بنے۔انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں جانسن کو اکسٹھ فی صد ووٹ ملے۔اتنے ووٹ کسی امریکی صدر کو نہیں ملے۔لیکن بیرونی دنیا میں جانسن اس امریکی صدر کے طور پر زیادہ جانے جاتے ہیں جس کے دور میں ویتنام پر نیپام بموں کی بارش ہوئی اور کیمیاوی ھتھیار استعمال ہوئے۔
جانسن کے بعد صدر بننے والے رچرڈ نکسن ریپبلیکن تھے۔انہوں نے امریکی عوام کو جبری بھرتی کے قانون سے نجات دلائی۔لیکن انکے دور میں ویتنام سے امریکی فوج کے انخلا سے قبل کارپٹ بمباری ہوئی۔چلی کے منتخب صدر آلندے کا تختہ الٹا گیا۔اور کمبوڈیا اور لاؤس جیسے غیر جانبدار ممالک کا اقتدارِ اعلی پامال ہوا۔
ریپبلیکن نکسن کی جگہ انیس سو چوہتر میں انکے نائب جیرالڈ فورڈ نے لی۔فورڈ نے اپنے مختصر دور میں انیس سو تہتر کی جنگ میں زخمی اسرائیل کو اتنی امداد دی کہ اس سے پہلے کسی امریکی انتظامیہ نے نہیں دی تھی۔بعد میں یہی امداد مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کے لئے استعمال ہوئی۔
ریپبلیکن فورڈ کو ہرا کر ڈیموکریٹ جمی کارٹر صدر بنے تو انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی پاسداری کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا۔لیکن شاہ کے زوال کے بعد ایران کی غیر اعلانیہ اقتصادی اور سیاسی ناکہ بندی کردی۔نیوٹرون بم کا پروجیکٹ شروع ہوا۔اور دورمار بی ون طیاروں کی تیاری شروع ہوئی۔کارٹر کے آخری دور میں سووئیت یونین نے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور امریکہ نے ان افغان مجاہدین کی پشت پناہی شروع کی جنہیں آنے والے وقت میں مغرب دشمن بنیاد پرست مزھبی جنونیوں کا خطاب ملنے والا تھا۔
ڈیمو کریٹ کارٹر کو ہرا کر ریپبلیکن رونالڈ ریگن وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے۔انکے دور میں امریکہ کی اقتصادی شرح پیداوار نئی حدوں کو چھونے لگی لیکن بیرونی دنیا کو کیا ملا؟ کیربئین کے چھوٹے سے ملک گریناڈا پر فوج کشی۔نکاراگوا کی غیر قانونی ناکہ بندی۔لیبیا پر فضائی حملے۔اسرائیل کی جانب سے انیس سو بیاسی میں لبنان پر جارحیت اور بیروت کے محاصرے اور صابرہ اور شتیلہ کیمپوں میں قتلِ عام سے چشم پوشی اور اسٹاروار پروگرام کے زریعے اسلحے کی عالمی دوڑ کا عروج !

ریگن کے دو ادوار کے بعد انکے ریپبلیکن جانشین جارج بش سینئر ہوئے۔وہ اپنے ہی اتحادی پانامہ پر فوج کشی اور بمباری کے بعد جنرل نوریگا کو قیدی بنا کر فلوریڈا لے آئے۔کیونکہ نوریگا نے پانامہ کینال کو قومی ملکیت میں لینے کی دھمکی دی تھی اور کینال کے علاقے سے امریکی فوجی دستوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔بش نے کویت پر سے عراقی قبضہ چھڑوانے کے نام پر نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھی۔اور اسی نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد پر آنے والے ڈیمو کریٹ صدر بل کلنٹن کی وزیرِ خارجہ میدلین آلبرائٹ نے کہا کہ اگر صدام حسین کو روکنے کے لئے پانچ لاکھ عراقی بچے اقتصادی ناکہ بندی کے نتیجے میں مر بھی گئے ہیں تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔
ڈیموکریٹ کلنٹن کے بعد ریپبلیکن بش جونئیر کا دور ہم سب کے سامنے ہے۔

اب اگر ریپبلیکن بش کی جگہ ڈیموکریٹ جان کیری صدر بنتے ہیں تو اس سے پچیس فیصد عالمی وسائیل کو استعمال کرنے والی چار فیصد عالمی آبادی پر مشتمل واحد سپر پاور کی خارجہ پالیسی میں کیااور کتنی تبدیلی آ جائے گی۔
ریپبلیکن کیا۔ڈیمو کریٹ کیا !

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد