قیمتی گوادر بے قیمت گوادری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی پانچ برس قبل جب میں پہلی دفعہ گوادر گیا تو شہر گھومتے گھومتے میرا مقامی دوست مجھے کوہِ باطل پر لے گیا۔ جس کے تین طرف سمندر اور ایک طرف خشکی ہے۔ اس کوہِ باطل کی اوپر کی سطع بالکل ہموار تھی اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایسے نشان لگے ہوئے تھے جیسے پلاٹ کاٹے گئے ہوں۔ میرے دوست نے اس جگہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ سنگھار ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جس میں بے نظیر اور نواز شریف سے لے کر پاکستان کے تقریباً ہر بااثر سیاستداں اور فوجی جنرل کا پلاٹ ہے۔ کوہِ باطل سے نیچے اتر کر ڈپٹی کمشنر گوادر کے دفتر میں مجھے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی والوں نے اس سوسائٹی کا نقشہ دکھایا جس میں ہر سیکٹر کے علیحدہ علیحدہ شاپنگ سنٹرز، چوڑی سڑکیں، بلے وارڈز اور جہاں رہائشی سیکٹر ختم ہوتے ہیں اس سے ذرا فاصلے پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے لئے مختص زمین کی بھی نشاندہی تھی۔ اکیسویں صدی کی اس جدید ترین بستی کا نقشہ میرے سامنے اس گوادر میں پھیلا ہوا تھا۔جہاں مقامی لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تھا۔بجلی ایک عرب شیخ کے عطیہ کردہ جنریٹر سے چوبیس میں سے صرف چھ گھنٹے کے لیے دستیاب تھی۔لوگوں کا گزارہ یا تو اسمگل شدہ اشیا پر تھا یا ماہی گیری پر۔ جو بھی مچھلی پکڑی جاتی وہ کراچی کے ایکسپورٹرز بولی لگا کر اٹھا لیتے۔ کچھ مقامی لوگ اومان ، بحرین یا قطر کی فوج اور پولیس میں بھرتی تھے وہ اپنے رشتے داروں کو وہاں سے پیسہ بھیج رہے تھے۔ شہر سے کوئی دس کیلو میٹر پرے گوادر انٹر کالج تھا جس میں انگریزی کے استاد کی آسامی پھچلے چار برس سے خالی تھی اور باقی اساتذہ میں سے آدھے آتے تھے جو باقی آدھوں کی حاضری بھی لگا دیتے تھے۔ اکثر نوجوان شراب یا ہیروئن کے عادی تھے۔اسمگل شدہ شراب یہاں پاکستان میں سب سے سستی تھی۔اور اس بہتی گنگا میں بااثر مقامی عمائدین سے لے کر کوسٹ گارڈّز کے متعدد اہل کاروں تک سب ہی ہاتھ دھورہے تھے۔ اس زمانے میں گوادر کے لوگ اس لئے خاصے مایوس تھے کیونکہ بقول انکے کسی حکومت نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔نہ تو بندرگاہ بنی اور نہ ہی میرانی ڈیم بن سکا جس سے ہزاروں ایکڑ زمین سیراب ہو سکتی تھی۔ آج پانچ برس بعد گوادر تک سڑک بھی پہنچ گئی ہے۔بجلی بھی ہے اور بندرگاہ بھی تیزی سے مکمل ہو رہی ہے۔لیکن گوادر کے لوگ اب بھی چیخ رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو انکا اپنی پسماندگی میں کوئی ہاتھ تھا اور نہ ہی اسوقت ہونے والی ترقی میں کوئی حصہ۔پسماندگی کے فوائد بھی انکے اوپر مسلط بااثر سرکاری اور غیر سرکاری لوگ سمیٹ رہے ہیں اور ترقی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اسکے فوائد بھی گوادر سے باہر کے سرمایہ کار اور آباد کار املاک اور روزگار کی شکل میں سمیٹیں گے۔ کل تک گوادر اور اسکے مکین دونوں بے قیمت تھے۔آج گوادر قیمتی ہے لیکن گوادری پھر بھی بے قیمت ہیں۔کل یہ اپنے حال سے خوفزدہ تھے آج اپنے مستقبل سے ڈرے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||