پاٹے خان کی منڈلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری طرح کے لاکھوں لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب ہم آٹھ دس برس کے تھے تو سال کے کسی ایک دن ہم بچوں سے کہا جاتا تھا کہ کل گھر سے آتے وقت دس دس پیسے بھی لائیے گا اگر پتلی تماشہ دیکھنا ہے۔ہم پوری رات اس خوشی میں جاگتے رہتے تھے کہ کل اسکول میں بور کرنے والی پڑھائی نہیں ہوگی کٹھ پتلیوں کا ناچ ہوگا۔ صبح صبح پتلی تماشا دکھانے والوں کی منڈلی آ جاتی تھی۔انکے سامان میں لکڑی کا ایک بڑا سا صندوق ہوتا تھا جس میں رنگ برنگی کٹھ پتلیاں ہوتی تھیں۔تین چارپائیاں اور کچھ رنگ برنگی چادریں اور منڈلی میں شامل ادھیڑ عمر کی واحد عورت کے پاس ایک ڈھولکی بھی ہوا کرتی تھی۔ یہ منڈلی تینوں چارپائیاں کھڑی کرکے
جب بچے قطاروں میں مؤدب بیٹھ جاتے اور ان قطاروں کے پیچھے اساتذہ اپنی اپنی نشستیں سنبھال لیتے تو ڈھول کی تھاپ پر ایک لوک گیت سا فضا میں بکھرتا اور ایک کے بعد ایک پتلی اوپر سے اسٹیج پر اتاری جاتی۔ پہلے یہ پتلیاں خوب ناچتیں اور پھر انکے درمیان مزاحیہ مکالمے بازی ہوتی۔ مکالمے اگرچہ اسٹیج کے پیچھے سے ڈوریں ہلانے والے آوازیں بدل بدل کر بولتے لیکن وہ پتلیوں کو اس مہارت سے حرکت میں رکھتے جس سے مستقل یہ دھوکا رہتا گویا پتلیاں خود بول رہی ہوں۔ ہر پتلی کا اسکے کردار کے اعتبار سے الگ الگ نام بھی ہوتا تھا۔ لیکن سب سے اہم پتلی کا نام پاٹے خان تھا۔ باقی پتلیاں پاٹے خان کے ذیلی کرداروں کے طور پر اچھلتی کودتی اور بولتی تھیں۔ یہ گیتوں اور باتوں بھری دھما چوکڑی کوئی گھنٹے بھر تک جاری رہتی اور تماشے کے اختتام پر منڈلی کا ایک آدمی ہیٹ یا جھولی پھیلا کر ہر بچے کے سامنے سے گزرتا۔ بچے اس ہیٹ یا جھولی میں دس دس پیسے کا سکہ ڈالتے جاتے۔ وقت بدل گیا۔ اسکولوں میں پتلی تماشا دکھانے والی منڈلیاں تیزی سے بدلتے زمانے کی دھول میں گم ہوتی چلی گئیں۔ لیکن انکی جگہ ایک بڑی اور منظم منڈلی نے لے لی۔ پتلی تماشا اب بھی ہوتا ہے لیکن ہر سال نہیں بلکہ ہر چند سال بعد۔ اسکولوں میں پاٹے خان کا جو پتلی تماشا دس دس پیسے جمع کرکے دکھایا جاتا تھا اب یہی تماشا زیادہ بڑے پیمانے پر ایک ایک ووٹ جمع کرکے دکھایا جاتا ہے۔ پاٹے خان کی منڈلی بھی خوش۔ تماشا دیکھنے والے بھی راضی باضی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||