BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 July, 2004, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت عزیز کا تھرپارکر

تھر کی عورتیں
شوکت عزیز صاحب آداب

میں اس روز سے آپ کا پرستار ہوں جس روز آپ نے امریکہ کے سٹی بینک کے منصبِ جلیلہ پر لات مار کے پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کا وزیرِ خزانہ بننا منظور کیا۔آپ کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف ملک بھر میں روزگار کے بےشمار مواقع پیدا ہوۓ بلکہ زراعت ہو یا صنعت، درآمد و برآمد ہو یا سرمایہ کاری۔ہر شعبہ دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔

اب آپ نے اس شکرگزار قوم کے احساسات کا پاس رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم کے منصب کا کانٹوں بھرا تاج سر پر رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسکی جس قدر تعریف کی جاۓ کم ہے۔آپ چاہتے تو ملک کے کسی بھی ترقی یافتہ علاقے سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو سکتے تھے لیکن آپ نے تھرپارکر جیسے علاقے کو اپنے حلقہ انتخاب کے طور پر عزت بخشنے کا جو عندیہ دیا ہے وہ ملک کے اس دوردراز نظرانداز اور پسماندہ علاقے کے غریب لوگوں کے لئے آپ کی دردمندی کا ایک روشن ثبوت ہے۔

تھرپارکر کے لوگ غریب ضرور ہیں لیکن احسان فراموش ہرگز نہیں۔ارباب خاندان نے اس علاقے کو ہر طرح کے بیرونی اور منفی اثرات سے جس طرح بچا کر رکھا ہوا ہے۔اسکی شکرگزاری کے لئے یہاں کے لوگ ہر بار اس خاندان کو بلامقابلہ یا بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں۔

کوسٹ گارڈز، رینجرز اور انٹیلی جینس ایجنسیاں اہلِ تھرپارکر کا اس طرح تحفظ کرتی ہیں جیسے ماں اپنے بچے پر نگاہ رکھتی ہے۔

شوکت عزیز صاحب! جب آپ زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب میں تشریف لے جائیں تو کوشش کیجئے گا کہ گاڑی کے شیشے بند رکھیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ مٹھی بھر بدطینت عناصر اس تاک میں رہیں کہ موقع ملتے ہی طرح طرح کی کہانیاں سنا کر آپ کو کنفیوز کرنے کی کوشش کریں۔ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی منہ پھٹ یہ کہنے کی کوشش کرے کہ ایک ملین لوگوں کو پکی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف ہے۔عورتوں کی ایک تعداد زچگی کی تاب نہ لا کر مر جاتی ہے۔سانپ کے کاٹے کو بروقت اسپتال نہیں پہنچایا جا سکتا۔بائیس ہزار مربع کیلومیٹر پر پھیلے اس علاقے کی زراعت کا دارومدار صرف اور صرف بارش پر ہے۔بارش نہ ہو توآدھی آبادی اپنے لاکھوں مال مویشیوں کے ہمراہ نقلِ مکانی پر مجبور ہو جاتی ہے۔

ایسی باتیں وہ لوگ بڑھا چڑھا کر کرتے ہیں جنہیں نہ صرف تھرپارکر کے لوگوں کا تشخص کھٹکتا ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تھرپارکر والے بھی اسی طرح دنیادار بن جائیں جیسے دیگر علاقوں کے لوگ ہیں۔

شوکت عزیز صاحب ! آپ یہاں مہمان ہیں۔ ان لوگوں کے پاس مہمان نوازی کے لئے ووٹ کے سوا کچھ نہیں۔اس لئے بے فکر ہو جائیے آپ یہاں سے نہ صرف جیتیں گے بلکہ شائد بلامقابلہ جیتیں گے۔کیونکہ پھر نہ جانے آپ کا یہاں دوبارہ کب آنا ہو یا نہ ہو۔

بس ایک چھوٹی سی گزارش ہے۔کہیں ان لوگوں سے جذباتی ہو کر کوئی وعدہ نہ کر بیٹھئیے گا۔
والسلام
آپ کا وسعت اللہ خان

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد