طلاق بذریعہ رینجرز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ کسی کو جوتے پڑ گئے۔الٹا لٹکا دیا گیا۔برف کی سل پر لٹا دیا گیا۔بال اور ناخن کھینچ لئے گئے یا ریپ کردیا گیا۔لیکن اب ریاستی تشدد کے طریقوں کی فہرست میں ایک اور طریقہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کی سرکردہ عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں فوجی زرعی فارموں پر نسلوں سے کام کرنے والے مزارعوں پر رینجرز کے تشدد سے متعلق گزشتہ ہفتے جو مفصل رپورٹ شائع کی ہے اس میں جہاں یہ تذکرہ ہے کہ نئے زرعی کنٹریکٹ پر دستخطوں کے لئے مجبور کرنے کے سلسلے میں گیارہ برس کے بچوں سے لے کر انکے ساٹھ برس تک کے بزرگوں پر کیسا کیسا جسمانی تشدد ہوا۔وہیں ایک اور منفرد طریقہ بھی استعمال ہوا۔اسکا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ اٹھارہ جون سن دو ہزار تین کو ضلع اوکاڑہ کے علاقے منولیاں میں چک نمبر بیالیس کے رہائشی بشارت محمود کو اغوا کرکے اوکاڑہ کے رینجرز ہیڈ کوارٹرز پہنچا دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ بشارت کے سسر محمد رفیق نے بھی اوکاڑہ ملٹری فارمز پر کام کرنے والے ہزاروں دیگر کسانوں کی طرح نئے کنٹریکٹ پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔ کیونکہ اس کنٹریکٹ کے ذریعے نسلوں سے فصل کی بٹائی کے فارمولے کی جگہ کسانوں کو نقد رقم کی ادائیگی اور عدم ادائیگی کی صورت میں زمین سے بے دخلی کا پابند کیا جا رہا تھا۔ بشارت محمود پر ابتدائی جسمانی تشدد کے بعد رینجرز کے حکام نے کہا کہ اسکی رہائی کی یہی صورت ہے کہ وہ اپنے سسر محمد رفیق کو واجبات کی ادائیگی پر مجبور کرنے کے لئے اسکی بیٹی یاسمین کو طلاقِ ثلاثہ ( تین بار طلاق) دینے کے کاغذات پر دستخط کر دے۔تب تک بشارت محمود کی شادی کو صرف چار ماہ ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ بشارت نے انکار کردیا۔اسکے بعد بشارت پر اتنا تشدد کیا گیا کہ اس نے کاغذ پر دستخط کر دئیے۔طلاق نامے میں وجہ یہ لکھی گئی کہ چونکہ میرا سسر محمد رفیق ملٹری فارمز کے واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہا ہے اس لئے برادری نے اسکے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور میں اس شرمندگی کی وجہ سے محمد رفیق کی بیٹی یاسمین کو طلاق دے رہا ہوں۔اس طلاق نامے پر دو گواہوں نے بھی دستخط کئے اور اسکی تصدیق مقامی یونین کونسل کے ناظم سے بھی کروائی گئی۔ اس واقعے کے کوئی ایک ماہ بعد بشارت محمود نے اسی یونین کونسل میں تحریری حلف نامہ پیش کیا کہ اس سے رینجرز نے جبرا ً طلاق نامے پر دستخط لئے ہیں ساتھ ہی بشارت محمود نے ایک عالمِ دین سے بھی اس معاملے پر فتویٰ لیا جس میں کہا گیا ہے کہ جبرا ً طلاق نہیں ہو سکتی۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے آخر میں بشارت محمود کےطلاق نامے ، یونین کونسل کے ناظم کے تصدیقی خط، طلاق نہ دینے کے سلسلے میں بشارت کے حلف نامے اور یونین کونسل کی جانب سے اس حلف نامے کی وصولی کی رسید کا حرف بہ حرف ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس طرح کے ایک سے زائد واقعات ہوئے ہیں لیکن دیگر متاثرین نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اوکاڑہ ملٹری فارمز کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو بے بنیاد، شر انگیز اور یکطرفہ قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب بھی ہیومن رائٹس واچ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی رپورٹ شائع کرتی ہے تو حکومتِ پاکستان کے اہلکاروں کے بیانات اور سرکاری میڈیا میں اسکے مفصل حوالے دئیے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||