BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 July, 2004, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رینجرز: زمین کا حصول معطل

News image
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی طرف سے پاکستان رینجرز کے لیے تین سو ایکڑ زمین مارکیٹ سے کم نرخ پر حاصل کرنے کا سرکاری حکم معطل کر دیا ہے ۔

زمینداروں نے عدالت کو بتایا جو زمین مارکیٹ میں پچاس لاکھ روپے فی ایکڑ بک رہی اس کو رینجرز سرکاری نوٹیفکیشن کرواکے تقریبا دو لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے خریدنا چاہتے ہے۔

پاکستان رینجرز اس زمین پر ہاؤسنگ سوساسٹی بنانا چاہتے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روک کر حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا جواب داخل کرے۔

لاہور کی ضلعی حکومت نے پندرہ مئی کو کاہنہ نو کے پاس موضع سادھوکی کی تین سو ایکز زمین رینجرز کے لیے زیرآمد (سرکار کے ذیعے لازمی طور زمین اس کے مالکان سے لینا) لانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جاوید بٹر نے بیس جولائی کو لاہور کی فیروز پور روڈ پر واقع موضع سادھوکی کے آٹھ درخواستوں نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روک دیا اور حکومت کو نوٹس جاری کردیے۔

زمینداروں کے وکیل رمضان چودھری کا کہنا ہے کہ لاہور کی مصروف شاہراہ فیروز پور روڈ پر واقع اس موضع کے پاس ڈاکٹرز سوسائٹی، انجینرز ٹاؤن اور گورنمنٹ کالج کا راوین ٹاؤن پہلےسے موجود ہیں اور یہاں کی زمین کی قیمت پچاس لاکھ روپے ایکڑ ہے جسے رینجرز نے سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے تقریبا دو لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے اونے پونے خریدنا چاہتی ہیں۔

رمضان چودھری کا کہنا ہے کہ رینجرز نے ہاؤسنگ سوساسٹی کو چند ماہ پہلے رجسٹرڈ کروایا جبکہ آجکل شہری حکومت نئی ہاؤسنگ سوساٹیاں رجسٹر نہیں کررہی اور یہ رعایت صرف رینجرز کو دی گئی۔ رینجرز کے تین سو ایکڑ زمین لینے سے اس گاؤں کی ایک چوتھائی آبادی متاثر ہوگی۔

ہائی کورٹ میں دائر رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جو زمین زیرآمد لائی جاتی ہے اس میں کوئی مفاد عامہ ہوتا ہے جبکہ اس سوسائٹی کا مقصد کوئی مفاد عامہ نہیں بلکہ صرف رینجرز کے مخصوص لوگوں کو پلاٹ دینا ہے۔ اس لیے اگر رینجرز یہ سوسائٹی بنانا چاہتی ہے تو وہ مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق مالکان کو پیسے دے کر زمین خریدے اور لوگوں کی جائداد اونے پونے نے سے روکا جائے۔

رٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ زمین زیر آمد کا قانون لینڈ ایکویزیشن ہاؤسنگ ایکٹ منسوخ ہوچکا ہے اور اب ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے ذریعے کسی کی زمین کو ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے زیر آمد لایا جاسکے۔

رٹ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کے آئین کا آرٹیکل چار ہر شخص کو اس کی جان، مال اور جائداد کا تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن رینجرز آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی جائداد لینا چاہتے ہیں۔

زمین مالکان نے حکومت کے نوٹیفکیشن کو غیرقانونی اور کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد