’فوجیوں کوزمین نہیں دی جا سکتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اعلی ترین عدالت سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کو زرعی اراضی الاٹ کرناملکی قانون کی روح کے منافی ہے۔ تین ارکان پر مبنی سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی ابہام نہیں کہ فوجیوں کو زرعی اراضی الاٹ کرنے کے بارے میں جو حکم نامہ پیش کیا گیا ہے اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ سرکاری اراضی مسلح افواج کے اہلکاروں کو مالکانہ حقوق یا لیز پر دی جاسکتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار رضا اور جسٹسں کرامت نذیر بھنڈاری پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اس فیصلے میں ایک امریکی مصنف کا بھی حوالہ دیا جن کا کہنا ہے کہ اگر اراضی چند ہاتھوں میں آجائے تو اسے واپس لے لینا چاہیے۔ عدالت نے مدعی برگیڈیر بشیر احمد کو تلقین کی کہ وہ اس سینکڑوں ایکڑ رقبے پر قناعت کریں جو انہیں الاٹ کیا گیا ہے اور باقی غریب کسانوں کے لیے چھوڑ دیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اس سلسلے میں جاری ہونے والے حکم نامے میں، جو کہ انیس سو بارہ کے قانوں کے تحت جاری ہوا اور بعد میں انیس سو پینسٹھ میں اس میں ترمیم کی گئی تھی، صاف طور پر کہا گیا ہے کہ سرکاری اراضی کسی سرکاری اہلکار بشمول مسلح افواج کے اہلکاروں کو الاٹ نہیں کی جاسکتی۔ بریگیڈیر بشیر احمد بنام عبدالکریم کے اس مقدمے میں جسٹس جاوید اقبال نے لکھا کہ ’ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔‘ مدعی کو ضلع بہاولپور میں تینتیس ہزار آٹھ سو سڑسٹھ ایکڑ زرعی زمین میں سے چار سو کنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔ یہ زمین حکومت پنجاب نے انیس سو ترانوے میں فوجی افسروں کو الاٹ کرنے کے لئے جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل کے حوالے کی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||