BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2003, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اسمبلی: غریب مولوی امیر فوجی

پاکستان
پاکستانی قومی اسمبلی کی عمارت

پاکستانی ارکان قومی اسمبلی کے اثاثوں کے بارے میں الیکشن کمیشن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سابق فوجی ہونے کا حوالہ رکھنے والے ارکان امیر ترین اور بالعموم مولوی کہلانے والے ارکان غریب ترین ہیں۔

سرحد سے منتخب مولانا شاہ عبدالعزیز اور مولانا نیک زمان ایسے ارکان اسمبلی ہیں جنہوں نے اپنے اثاثے صفر ظاہر کئے ہیں۔ حالانکہ وہ ماہانہ سترہ ہزار روپوں سے زائد تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور چیک کے ذریعے بھی رقوم وصول بھی کرتے ہیں لیکن انہوں نے نہ بینک اکاؤنٹ کا ذکر کیا ہے نہ ہی کسی املاک کا۔

ساٹھ سے زائد مولویوں میں سے میاں اسلم جیسے بعض ارکان اسمبلی کروڑ پتی بھی ہیں لیکن بیشتر غریب ہیں اور انکی ظاہر کردہ املاک ہزاروں اور بعض کی لاکھوں میں ہیں۔ جیسا کہ مولانا امان اللہ نے بیس ہزار اور مولانا محمد قاسم نے تینتالیس ہزار کی مالیت کے لگ بھگ کی کل ملکیتیں ظاہر کی ہیں۔

لیفٹینٹ کرنل (ر) غلام رسول ساہی نے اپنی املاک کا اندازہ سات کروڑ پینسٹھ لاکھ باون ہزار سے زائد بتایا ہے جبکہ میجر (ر) طاہر اقبال جو کہ وزیر بھی ہیں انہوں نے اپنی املاک ایک کروڑ 47 لاکھ سے زائد ظاہر کی ہے جبکہ برگیڈیئر (ر) ذوالفقار احمد ڈھلوں نے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے املاک ظاہر کی ہیں۔

چاروں وزراء اعلٰی میں سب سے زائد امیر پنجاب کے پرویز الٰہی اور سب سے غریب سندہ کے علی محمد مہر ہیں۔ پرویز الٰہی نے 9 کروڑ ستر لاکھ سے زائد جبکہ علی محمد مہر نے ایک کروڑ چار لاکھ کی ملکیت ظاہر کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان چاروں وزرائے اعلیٰ ان کے دعوے سے کہیں زیادہ رئیس سمجھتے ہیں۔

مخدوم امین فہیم، محمود خان اچکزئی اور حامد ناصر چٹھہ سمیت متعدد ارکان نے اپنی املاک کی قیمت نہیں بتائی البتہ مکان زرعی زمین پلاٹوں وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پچاس فیصد سے زائد ارکان اسمبلی نے قوانین کے مطابق تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم الیکشن کمیشن نے انکے دعوے قبول کرلئے ہیں۔

وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے اپنے گذشتہ اثاثوں میں اضافہ نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے پرانے اثاثے قبول کرنے کی درخواست کی ہے اور پرانے اثاثوں کی قیمت کا جاری کردہ تفصیلات میں ذکر نہیں ہے۔ اس کے برخلاف جب اسحاق خاکوانی نے کمیشن کو پچھلے سال کے اثاثے قبول کرنے کی درخواست کی تو نہ صرف اسے مسترد کر دیا گیا بلکہ اسمبلی اجلاس میں ان کی شرکت پر پابندی بھی عائد کی گئی۔

امیر ترین ارکان اسیمبلی میں وفاقی وزیر خارجہ خورشید قصوری انتیس کروڑ جہانگیر خان ترین چھبیس کروڑ چودھری شجاعت بیس کروڑ اور میاں محمد اسلم پندرہ کروڑ کے اثاثوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

مولونا فضل الرحمان 27 لاکھ، قاضی حسین احمد اکتیس لاکھ، جاوید ہاشمی چھ کروڑ سے زائد، آفتاب شیر پاؤ ڈھائی کروڑ، فیصل صالح حیات تین کروڑ اور عمران خان نے اپنے اثاثوں کی مالیت چھ کروڑ روپے ظاہر کی ہے۔

زبیدہ جلال نے پونے آٹھ کروڑ، ہمایوں اختر نے سوا دو کروڑ، تہمینہ دولتانہ نے پانچ کروڑ، سردار فاروق لغاری نے دو کروڑ اور سپیکر قومی اسمبلی امیر حسین نے پونے دو کروڑ سے زائد کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد