| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج معاوضہ ادا کرے: عدالت
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فل بینچ نے بدھ کو آرمی ویلفئیر ٹرسٹ کو حکم دیا کہ وہ اسلام آباد کے دیہات میں اپنے قبضہ میں لی گئی تمام زمینوں کا مناسب معاوضہ اصل مالکان کو ادا کرے۔ یہ فیصلہ ان اپیلوں پر صادر کیا گیا جن میں مختلف افراد نے اسلام آباد شہر کے نواحی علاقوں، سنگ جانی اور ترنول کے قریب اپنی ہزاروں کنال قیمتی زمین پر آرمی ویلفئیر ٹرسٹ کے قبضے کو چیلنج کیا تھا۔
مالکان نے عدالت عظمی سے کہا تھا کہ ان کی قیمتی اراضی پر فوجی افسروں کے لیے محلات نما رہائش گاہوں کی تعمیر سے قومی مفاد پورا ہوتا ہے اور نہ ہی دفاعی ضروریات۔ اپیل کرنے والوں میں راجہ بشارت اور دیگر شامل تھے جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں ٹرسٹ کی جانب سے زمینوں کے حصول کو قومی اور دفاعی مفاد میں قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کا فل بینچ چیف جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس قاضی محمد فاروق اور جسٹس عبدالمجید ڈوگر پر مشتمل تھا۔
مالکان کے وکیل عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ نے درخواست کی تھی کہ سرکاری اداروں کی جانب سے لوگوں کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے بڑھتے ہوۓ رجحان کی حوصلہ شکنی کی جاۓ۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری قسط میں چار ہزار کنال سے زیادہ زمین حاصل کی گئی۔ مالکان نے عدالت عظمی سے کہا کہ شروع میں یہ تاثر دیا گیا کہ ان زمینوں کو دفاعی او قومی مفاد میں لیا جارہا ہے اور اس بارے میں تیرہ فروری انیس سو پچانوے کو ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ تاہم بعد میں نۓ نوٹیفکیشن میں زمینوں کے حصول کا مقصد فوجی افسران کے لیے ہاؤسنگ کالونی کی تعمیر بتایا گیا۔ آرمی ویلفئیر ٹرسٹ کے وکیل فاروق مہتہ نے لاہو ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوۓ کہا کہ ملک و قوم کے لیے خدمات انجام دینے والے فوجی افسران کی رہائشی ضروریات کی کمی کا بجا طور پر نوٹس لیا گیا۔
انہوں نے مالکان کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے عدالت عظمی سے کہا کہ معاوضہ کی ادائیگی کوئی تنازعہ نہیں ہے اور کئی مالکان نے خوش دلی سے معاوضہ وصول کیا ہے جکہ باقی مالکان کے معاوضہ کی رقم بھی جمع کرادی گئی ہے۔ تاہم اپیل کرنے والوں کے وکیل نے اصرار کیا کہ مالکان کو ایک پیسہ معاوضہ نہیں ملا۔ مالکان کے وکیل نے مزید کہا کہ زمینوں کے حصول کے سلسلہ میں بے قاعدگیاں کی گئیں اور ایک ایسے گاؤں کی تمام اراضی پر بھی قبضہ کرلیا گیا جو اس نوٹیفکیشن میں شامل نہیں تھا جس کے تحت زمینیں ٹرسٹ کے انتظام میں لی گئیں۔ وکیل نے سی ڈی اے آرڈیننس انیس سو ساٹھ کا حوالہ دیا اور کہا کہ قانون کے تحت یہ زمینیں اسلام آباد کی حدود میں شامل ہیں اور کوئی دوسرا ادارہ ان زمینوں کو نہیں لے سکتا۔ اور یہ کہ سی ڈی اے نے ٹرسٹ کو صرف ہمک گاؤں کے لیے اجازت نامہ جاری کیا تھا جسے بدنیتی سے پورے علاقے پر لاگو کردیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||