ملٹری فارمز: مزارعین کامحاصرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوکاڑہ کے نواح میں واقع ملٹری فارمز کے مزارعین کے احتجاج کے اعلان کے بعد ہفتہ کے روز انیس دیہاتوں کو رینجرز نے محاصرہ میں لے لیا ہے اور ان کے آنے جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کردی ہے جس سے ڈیڑھ لاکھ کسان محصور ہوگۓ ہیں۔ مزارعین جمعہ کے روز اوکاڑہ کی ایک عدالت میں پیش آنے والے واقعات پر احتجاج کررہے تھے جن میں مزارعین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور جن مزارعین کی عدالت نے ضمانت پکی کی تھی انھیں بھی پولیس نے ایم پی او کی دفعہ تین کے تحت گرفتار کرکے ساہیوال جیل بھجوادیا تھا۔ ان میں الطاف احمد، گلزار اور غلام رسول شامل ہیں۔ اس واقعہ پر چک نمبر چار ایل اور چک نمبر بارہ ایل چار میں مزارعین نے رینجرز کی ناکہ بندی کے باوجود جلوس نکالے اور جمعہ کو گرفتار کیے گئے ایک درجن سے زیادہ افراد کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی تھی۔ انجمن مزارعین کے رہنما نور نبی نے کہا ہے کہ حکومت انجمن کے لوگوں اور مزارعین پر سے جھوٹے مقدمات خارج کرے۔ ہفتہ کو پولیس نے ایک سو مزارعین پر مقدمہ درج کرلیا۔ چند روز پہلے انسانی حقوق کے عالمی ادارہ ہیومن رائیٹس واچ نے مزارعین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||