نہ سنو، نہ دیکھو، نہ کہو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات پنجاب کے شہر نارووال میں پولیس نے تین مفرور ملزموں کو اسی گاؤں میں ہلاک کردیا جہاں کوئی تین ماہ پہلے پنجاب پولیس کے ایک ایس پی طیب سعید کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس کو اپنے افسر کی ہلاکت کے سلسلے میں کل چھ افراد مطلوب تھے۔ان میں سے دو طیب سعید کی ہلاکت کے فوراً بعد ماردیے گئے۔ تیسرے کو لاہور شہر میں مفرور قرار دے کر مارا گیا اور باقی تین مفروروں کو انہی کے گاؤں میں ہلاک کردیا گیا۔ اور ان ہلاکتوں کو پولیس مقابلوں کے نام سے داخلِ دفتر کردیا گیا۔ایسے پولیس مقابلے جن میں کوئی پولیس والا جوابی فائرنگ سے زخمی تک نہیں ہوا۔ حکومت کی جانب سے پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی پولیس افسر کے اہلِ خانہ کو اتنی زیادہ مراعات اور معاوضہ نہیں ملا جتنا طیب سعید کی فیملی کو دیا گیا۔اور غالباً وہ پہلے پولیس افسر ہیں جنکی موت کے ذمہ دار چھ کے چھ ملزم اس دارِ فانی سے کوچ کرا دیے گئے۔ پورے کھیل میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ میں سے کسی ملزم کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔اور نہ ہی عدالت کو زحمت دی گئی۔سب کچھ نہایت تیزی کے ساتھ پولیس نے ہی کر لیا۔اس سے جہاں پاکستانی پولیس باالخصوص پنجاب پولیس کی ملزموں کی سرکوبی کے سلسلے میں غیر معمولی کارکردگی ظاہر ہوتی ہے، وہیں یہ اصول بھی طے پاتا ہے کہ گرفتاری، قانونی دفعات کے نفاذ اور عدالتی کارروائیوں کے جھمیلوں میں عام آدمی تو پہلے ہی پڑنا پسند نہیں کرتا تھا۔خود پولیس بھی نہیں پسند کرتی۔ ابنِ خلدون سے لے کر ونسٹن چرچل تک سب کا خیال یہ تھا کہ جس سماج کی عمارت میں سے عدلیہ کا ستون نکل جائے۔ وہ عمارت زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکتی۔لیکن پاکستان میں اب یہ چلن عام ہوتا جارہا ہے کہ چاہے قتل کی واردات کی تحقیق کا معاملہ ہو، لڑکیوں کو بطور ہرجانہ دینے کی رسم ہو، قبائیلی جھگڑوں میں مرنے والے لواحقین کے درمیان فیصلہ کرانا ہو، عصمت دری یا غیرت کے نام پر قتل کی واردات ہو یا پھر آئین اور قانون کے ساتھ زور زبردستی۔ عدلیہ کو احتراماً ان جھمیلوں میں پڑنے کی کم سے کم زحمت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ثابت یہ ہو رہا ہے کہ کاروبارِ مملکت و حیات نہ صرف عدلیہ کو بیچ میں ڈالے بغیر چل رہا ہے بلکہ خوب چل رہا ہے۔ باقی دنیا میں لوگ عدلیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے کتراتے ہیں اور دس بار سوچتے ہیں۔ مگر پاکستان میں عدلیہ کے لئے یہ اصول وضع کر لیا گیا ہے کہ نہ بری بات سنو، نہ دیکھو ، نہ کہو۔ سنتے ہیں کہ انصاف اندھا ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||