BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 December, 2004, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افلاطون سے مشرف تک

مشرف
مشرف کی وردی پوش جہموریت
جمہوریت کا موجودہ تصور ایک مغربی تصور سمجھا جاتا ہے۔ جس کی بنیاد افلاطون کی ریپبلک پر ہے۔ جبکہ جان لاک، تھامس ہابس، ژاں ژاک روسو اور فرانسوا والٹیر جیسے دیوقامت سیاسی فلسفیوں نے اس تصورِ جمہوریت کو دیواریں ، چھت اور دروازے کھڑکیاں فراہم کئے۔اور یوں ارتقائی مراحل طے کرتے کرتے ہمارے سامنے ویسٹ منسٹر ماڈل ، متناسب نمائندگی پر مبنی فرانسیسی ماڈل اور امریکی صدارتی ماڈل کی صورت میں تین جمہوری ماڈل آئے۔
لیکن اٹھارہ دسمبر سن دو ہزار چار کی تاریخ اس لیے یاد رکھی جائے گی کہ اس دن پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اکیسویں صدی کا پہلا اور جمہوریت کا چوتھا ماڈل پیش کیا۔ جس کے مطابق فوج کی سپاہ سالاری اور ملکی صدارت کی یکجائی کی بنیاد پر بھی ایک جمہوری عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔اور جو لوگ اس ماڈل کو مسترد کرتے ہیں وہ غیر جمہوری سوچ رکھتے ہیں۔

پچھلے تینتیس برس میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت نے علمِ سیاسیات میں ایک تازہ فلسفہ متعارف کرایا ہے۔

انیس سو اکہتر میں اس فوجی قیادت نے سیاسیات کا یہ کلاسیکی فلسفہ غلط ثابت کر دکھایا کہ ہمیشہ اقلیت اکثریت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے۔فوجی قیادت نے اپنی سیاسی پالیسی سے ثابت کیا کہ اکثریت بھی اقلیت سے تنگ آ کر نہ صرف بھاگ سکتی ہے بلکہ علیحدہ نام سے علیحدہ ملک بھی بنا سکتی ہے۔

وردی اور شیروانی کی یکجائی کا مشرف جمہوری فارمولا کوئی ہوائی فارمولا نہیں ہے بلکہ اسے پاکستانی پارلیمنٹ اور پنجاب اور سندھ کے اسمبلی ارکان کی اکثریت کی تائید و حمائت بھی حاصل ہے۔ صرف بلوچستان اور سرحد کی اسمبلیوں نے اس فارمولے کی قدر نہیں کی حالانکہ بقول صدر مشرف یہ فارمولا ملک اور جمہوریت کے بہترین مفاد میں ہے۔

ویسے بھی کوئی اچھا فارمولا کسی فرد یا ملک کی میراث نہیں ہوتا بلکہ ثوابِ جاریہ کی طرح ہوتا ہے۔ جو بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس سے جتنا بھی فیض اٹھالے۔

ذرا تصور کیجئے کہ وردی اور شیروانی کی یکجائی پر مبنی مشرف جمہوری فارمولا اگر دیگر ممالک میں بطور ماڈل مقبول ہونا شروع ہوجائے تو کیا منظر ہوگا۔
بھارت کے صدر اور بری فوج کے سربراہ جنرل اے پی جے عبدالکلام۔
سری لنکا کی صدر اور چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل چندریکا کمارا تنگا۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم اور سپاہ سالار میجر جنرل خالدہ ضیا۔
ایران کے روحانی پیشوا اور زمینی فوج کے سربراہ فیلڈمارشل آیت اللہ علی خامنہ ای وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

صدر مشرف بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو ایک جدید روشن خیال مسلمان جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں۔اور انکا وردی شیروانی مکس نظریہ جمہوریت اس منزل کی جانب اب تک کا سب سے اہم قدم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد