میں اور عام آدمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج میں آپ کو لگی لپٹی بغیر صاف صاف بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک عام آدمی ہیں اور میں عام آدمی نہیں ہوں۔آپ کا صرف ایک روپ ہے۔ میرے کئی روپ ہیں۔میں جب چاہوں آپ سے رابطہ کرسکتا ہوں لیکن آپ مجھ سے میری مرضی کے بغیر نہیں مل سکتے۔ آپ کو اگر مجھ سے ملنے کی تمنا ہے تو ہوتی رہے لیکن مجھے بہت کم موقعوں پر آپ جیسے عام آدمیوں سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔کیونکہ میں نے اپنے ذھن کی اسکرین پر آپ کا ایک تھری ڈی ماڈل بنا رکھا ہے۔اور آپ کی تمام ممکنہ خواہشات اور ضروریات کا ڈیٹا بھی میری ذہنی اسکرین پر موجود ہے۔اسے الٹنے پلٹنے سے مجھے معلوم ہوتا رہتا کہ آپ کس صورتحال میں زیادہ سے زیادہ کیا سوچ سکتے ہیں اور کس شے کی تمنا کرسکتے ہیں۔ بطور صحافی میں خود طے کرتا ہوں کہ آپ کے لیے کونسی خبر کتنی اہم یا غیر اہم ہے۔مجھے معلوم ہے کہ جس خبر یا مسئلے کہ تہہ تک میں چٹکی بجاتے پہنچ سکتا ہوں بطور عام آدمی آپ کے لیے اسے فوری طور پر سمجھنا دشوار ہوگا۔اس لیے آپ کے لیے کتنی آسان زبان میں کتنی معلومات شائع یا نشر کرنا چاہیں۔اسکا فیصلہ بھی آپ کی طرف سے مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ ایک بیوروکریٹ کے طور پر یہ بھی مجھے ہی طے کرنا پڑتا ہے کہ آپ کو کتنے اسکولوں ، اسپتالوں، بجلی اور پانی کے منصوبوں اور آپ کی فلاح و بہبود کے لیے کتنے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی کن کن شرائط پر ضرورت ہے۔آپ کو بطور عام آدمی کتنا ٹیکس دینا ہے اور مجھے یہ ٹیکس کیسے اور کہاں خرچ کرنا ہے۔ بطور فوجی جنرل یہ ٹیکنیکل بات صرف میں ہی جانتا ہوں کہ آپ جیسے بھولے عام آدمی کو کس ملک، گروہ یا فرد کی طرف سے کب کب اور کتنا خطرہ ہے۔اور اس خطرے سے آپ کو بچانے کے لیے مجھے کس ملک سے کتنا اور کیسا اسلحہ کتنی قیمت پر درکار ہے۔ ایک حکمراں کی حیثیت سے یہ طے کرنا بھی میری ہی مجبوری ہے کہ آپ کے لیے بےروزگاری، کرپشن یا امن و امان میں سے کونسا مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔آپ کو کتنی مقدار میں آزادی دی جائے جسے آپ کا کمزور معدہ سہار سکے۔آپ ہی بتایئے کہ اگر مجھے یہ سب نہ معلوم ہوتا تو آپ کا حکمران کیسے ہوتا۔ لیکن خدارا یہ نہ سمجھیے گا کہ عام آدمی ہونا کوئی عیب ہے۔اگر آپ کا وجود نہ ہوتا تو بطور صحافی میں کس کے لیے خبریں شائع یا نشر کرتا۔بیوروکریٹ کے طور پر میری ملازمت کیسے برقرار رہتی۔بطور جنرل میں کس کی حفاظت کرتا اور حکمراں کی حیثیت سے کون میری رعایا ہوتا۔ بس یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ اس نے مجھے عام آدمی نہیں بنایا اور آپ کو بنادیا۔خدا کے آگے بھلا کس کی مرضی چلتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||