BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 November, 2004, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چڑی مار ذہنیت

مچھیرے
ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کے ماہی گیر پکڑ پکڑ کر جمع کرتے رہتے ہیں۔
دوسرے شہروں میں بھی یہ منظر ضرور ہوتا ہوگا۔ لیکن میں نے تو لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے دربار کے آس پاس اور کراچی کے بعض مصروف چوراہوں پر دیکھا ہے کہ چڑی مار ہاتھوں میں چڑیوں سے بھرے دوچار پنجرے پکڑے گھومتے رہتے ہیں اور منتظر ہوتے ہیں ایسے مسائل زدہ لوگوں کے جو ان چڑیوں کو رقم ادا کرکے آزاد کروائیں۔اس طرح سے چڑیاں آزاد کرانے والا ثواب کماتا ہے اور چڑی مار پیسے۔

مگر ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی ثواب سمیٹنے والا ادھر ادھر ہوتا ہے۔چڑی مار بہت سی آزاد کردہ حیرت زدہ چڑیوں کو دوبارہ پکڑ لیتا ہے اور اگلے روز ان میں کچھ نئی چڑیاں شامل کرکے پھر انہی چوراہوں اور مزاروں کے اردگرد ثواب کے متلاشی گاہکوں کو تلاش کرتا گھومتا ہے۔

میں جب بھی ہر مہینے پندھرواڑے یہ خبر سنتا ہوں کہ پاکستان نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے والے اتنے بھارتی ماہی گیر پکڑ لئے اور بھارت نے اتنے پاکستانی ماہی گیروں کو اپنی سمندری حدود میں داخلے پر دھر لیا تو میرے ذہن پر کوئی چڑی مار قبضہ کر لیتا ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کے ماہی گیر پکڑ پکڑ کر جمع کرتے رہتے ہیں۔

اسوقت پاکستان کے پاس آٹھ سو بھارتی اور بھارت کے پاس ایک سو نو کے لگ بھگ پاکستانی ماہی گیر جمع ہیں۔

جس طرح چڑی مار ثواب کے خواہشمندوں کے ہاتھ میں پنجرہ دے کر اسکا دروازہ کھولتے ہیں اور پرندے پُھر سے اڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح بھارت اور پاکستان سال بھر جمع کردہ ماہی گیروں کو ایک دوسرے پر جذبۂ خیر سگالی جتاتے ہوئے وقفے وقفے سے رہا کرتے رہتے ہیں۔

دونوں ملک تقریباً ہر سال طے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ماہی گیروں کو سمندری حدود پہچاننے کے لئے آلات اور ایسی فریکوینسیوں والے ریڈیو ریسیورز دیں گے جو سمندری طوفان یا بھٹکنے کی صورت میں رابطے کی سہولت فراہم کرسکیں۔یا بھٹک جانے والے ماہی گیروں کو تنبیہ کرکے دوبارہ اپنی اپنی سمندری حدود میں بھیج دیں گے۔

جب تعلقات کچھ دنوں کے لئے بہت بہتر ہو جاتے ہیں تو ان طے شدہ باتوں پر خاصی حد تک عمل بھی ہوجاتا ہے۔تعلقات بگڑنے لگتے ہیں تو بھٹکنے والے ماہی گیروں کو حراست میں لینے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔اور جب کشیدگی عروج پر پہنچ جاتی ہے تو پھر مبینہ طور پر ایک دوسرے کی سمندری حدود میں سے بھی تعداد پوری کرنے کی خاطر ماہی گیروں کی اٹھائی گیری شروع ہوجاتی ہے۔

یہ انسانی مسئلہ محض زبانی وعدے وعید اور جذبہ خیر سگالی کی نمائش سے شاید کبھی بھی حل نہیں ہو سکےگا۔ اس سے نمٹنے کے لئے دونوں ملکوں کو چڑی ماروں کی ذہنی سطح سے بلند ہونا پڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد