BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 November, 2004, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبدالرحمٰان دہشت گرد

فلسطینی مظاہرین
محمد عبدالرحمٰان دہشت گرد اپنے قبیلے کو خانہ بدوشی سے نجات دلائے بغیر مر گیا۔
دہشت گرد بننے سے پہلے محمد عبدالرحمٰان کویت میں الیکٹریکل انجینئر کے طور پر اچھی بھلی تنخواہ لے رہا تھا۔ارادہ یہ تھا کہ جلد نوکری چھوڑ کر ذاتی کام کرے اور مختلف کمپنیوں کے ٹھیکے لے کر آسودہ زندگی گزارے۔اور ایسا کرنا اسکے لیے کچھ مشکل بھی نہ تھا ۔ایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق ہونے کے باوجود اسکے آس پاس کے کچھ بااثر لوگوں سے اچھے بھلے مراسم تھے۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ محمد عبدالرحمٰان کا تعلق خانہ بدوش قبیلے سے تھا۔ لیکن یہ ویسے خانہ بدوش نہیں تھے جو ناچ گا کر یا چوری چکاری کے ذریعے یا سرکس میں کرتب دکھا کر یا پھر بھیک پر گزارہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ قبیلہ تو ان لوگوں پر مشتمل تھا جو ایک نسل پہلے تک اپنے کچے پکے مکانوں میں رہتے تھے۔کھیتی باڑی کرتے تھے اور شام کو ٹانگیں پسار کر حقہ گڑگڑاتے ہوئے فراغت کے مزے لوٹتے تھے۔

بس ایک دن مغرب کی سمت سے ایسی آندھی آئی کہ گھروں کی چھتوں سے لے کر دستار تک سب ہی کچھ اڑا کر لے گئی۔ محمد عبدالرحمٰان کا قبیلہ اسی طرح بیابانوں کی خاک چاٹنے پر مجبور ہوا جس طرح ڈھائی ہزار برس پہلے کسی فرعون نے بنی اسرائیل کو بیابان میں ہنکال دیا تھا۔ بنی اسرائیل کی طرح محمد عبدالرحمٰان کا قبیلہ بھی ایک جگہ سے چپت پڑنے پر دوسری جگہ، دوسری جگہ سے لات کھانے کے بعد تیسری جگہ اور تیسری جگہ سے ذلیل ہونے کے بعد جگہ پر جگہ بدلتا رہا۔ کوئی ہم نسل ممیرا چچیرا محمد عبدالرحمٰان کے قبیلے کو مستقل اپنے علاقے میں برداشت کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔

ایک دن محمد عبدالرحمٰان نے سوچا کہ دو ہی راستے ہیں۔ یا تو بنی اسرائیل کی طرح ڈھائی ہزار برس تک مستقل خانہ بدوشی کی ذلت برداشت کی جائے اور کسی ایسے تاریخی حادثے یا لمحے کا منتظر رہا جائے کہ جب یہ خانہ بدوشی ختم ہو۔ یا پھر خم ٹھونک کر بندوق اٹھا کر حق طلب کیا جائے۔

محمد عبدالرحمٰان نے اپنے پانچ سات قریبی دوستوں کو جمع کرکے پوچھا کہ دونوں میں سے کونسا راستہ اختیار کیا جائے۔سب نے کہا جیسے آپ کہو۔

محمد عبدالرحمٰان نے کہا ایک بار پھر سوچ لو۔ بندوق کا راستہ روپوشی، مار، موت اور ذلت کی ایسی راہ سے گزرتا ہے جہاں سایہ بھی کبھی کبھی اپنا نہیں رہتا۔ تمھارا کوئی ہم نسل قبیلہ مدد کو نہیں آئے گا۔ سارا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جن کے لیے تم بندوق اٹھاؤ وہی ایک دن مایوس ہو کر منہ پر گالیاں دیں۔ محمد عبدالرحمٰان کے دوستوں نے کہا جیسے تم کہو۔

پچھلے ہفتے محمد عبدالرحمٰان دہشت گرد اپنے قبیلے کو خانہ بدوشی سے نجات دلائے بغیر مر گیا۔ لیکن جاتے جاتے وہ ایک کام کر گیا کہ اپنی قبر اس علاقے میں بنوا گیا جہاں سے اسکے قبیلے کو نکالا گیا تھا۔

خانہ بدوشوں کو ایک نشانِ ملکیت درکار ہوتا ہے اپنی جگہ دوبارہ بسنے کے لیے۔ محمد عبدالرحمٰان دہشت گرد کے دشمن نے جانے انجانے میں یہ نشانِ ملکیت اسکے قبیلے کو فراہم کرکے وہ کام کردیا ہے جو محمد عبدالرحمٰان عبدالرؤف عرفات القدوی الحسینی سے جیتے جی نہ ہو سکا۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد